مصر نے غزہ کے ساتھ رفح سرحدی گذرگاہ تین روز کے لیے کھول دی
مصر نے غزہ کی پٹی کے ساتھ واقع رفح بارڈر کراسنگ کو تین روز کے لیے کھول دیا ہے اور مصر کے سرحدی علاقے میں پھنسے ہوئے فلسطینی طلبہ اور مریضوں سمیت سیکڑوں افراد غزہ میں اپنے گھروں کو لوٹ سکیں گے۔
فلسطین کے ایک سرحدی عہدہ دار نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مصر ی حکام نے انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہفتے کے روز یک طرفہ سرحد ی گذرگاہ کھولی ہے اور صرف مصری علاقے میں پھنسے ہوئے فلسطینی غزہ کی جانب آسکیں گے جبکہ غزہ سے فلسطینی مصری علاقے میں داخل نہیں ہوسکیں گے۔
واضح رہے کہ اسرائیل نے غزہ کی پٹی کی گذشتہ ایک عشرے سے ناکا بندی کررکھی ہے۔علاقے میں محصور فلسطینیوں کا صرف رفح کی گذرگاہ سے بیرونی دنیا سے رابطہ ہوسکتا ہے لیکن مصر اس کو اکثر بند ہی رکھتا ہے۔ اس کو طویل وقفوں کے بعد انسانی ہمدردی کی بنیاد پر چند ایک ایام کے لیے کھولا جاتا ہے اور وہاں سے صرف طلبہ اور بیماریوں کو مصری علاقے میں داخل ہونے کی اجازت دی جاتی ہے۔
غزہ کی سرحدی اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بیس ہزار سے زیادہ فلسطینیوں کو اس وقت بیرون ملک علاج کی اشد ضرورت ہے لیکن سرحد کی مسلسل بندش کی وجہ سے انھیں غزہ کی پٹی سے مصر منتقل نہیں کیا جاسکتا ہے۔مصر نے اس سال میں اب تک قبل ازیں فروری اور مارچ میں چند روز کے لیے اس بارڈر کراسنگ کو کھولا تھا اور علاج معالجے کے لیے مصر اور وہاں سے دوسرے ممالک میں جانے والے فلسطینیوں کی واپسی ممکن ہوئی تھی۔