.

’خان شیخون کیمیائی حملہ‘ بچوں کی کرب ناک موت کے مناظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے شہر ادلب کے علاقے خان شیخون میں ایک ماہ اور چند روز قبل بشار الاسد کی فوج نے نہتے شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں سے حملہ کیا تو پوری دنیا میں اس وحشیانہ کارروائی کے المناک مناظر دیکھے گئے۔ خان شیخون میں رہنے والے ان بد قسمت افراد پر ڈھائی جانے والی قیامت پر پتھر دل بھی موم ہوجاتے ہیں۔ اس ننگی جارحیت کا دکھ ان ماؤں سے پوچھا جائے جن کے ننھے منھے لخت ہائے جگر انتہائی المناک اور کربناک انداز میں بشارالاسد کی دہشت گردی کی بھینٹ چڑھے۔

حال ہی میں امریکی ٹیلی ویژن نیٹ ورک ’سی این این‘ نے خان شیخون میں کیمیائی حملے سے متاثر ہونے والے بچوں کی نئی تصاویر نشرکی ہیں۔ ان تصاویر میں کیمیائی حملے کا نشانہ بننے والے بچوں کو ہانپتے زندگی اور موت کی کشمکش میں دکھایا گیا ہے۔

’Gasping for Life‘ کے عنوان سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ شام میں گذشتہ چھ سال سے جاری اسدی ریاستی دہشت گردی میں خان شیخون میں جارحیت انتہائی سنگین اور المناک ہے۔

چار اپریل 2017ء کو خان شیخون میں ڈھائی جانے والی قیامت سے متاثرہ بعض بچوں کی تصاویر فوٹو گرافر آدم حسین نے اپنے کیمرے میں محفوظ کیں۔ دل ان مناظر کو دیکھنے کی تاب رکھتا ہے اور نہ ہی آنکھیں ان کی صداقت پر یقین کرتی ہیں۔ مگر یہ کھلی حقیقت ہے کہ کیمیائی حملے میں بچوں اور بڑوں سب کو ایک ایسی المناک مصیبت سے دوچار کیا کہ جس کے نتیجے میں ان کی موت بھی انتہائی تکلیف دہ ہوگئی تھی۔ بچوں کے فریادی چہرے، ٹرکوں میں لڑکھڑاتے بیسیوں ننھے منھے جسم، سانس کے اکھڑنے سے لڑتے، موت سے مزاحم اور زندگی کو ترستے دکھائی دیتے۔

بشار الاسد کی فوج کی طرف سے نہتے شہریوں پر جب کیمیائی حملہ کیا گیا تو اس کے نتیجے میں سانس لینا دشوار ہوگیا۔ ایک امدادی کارکن نے بتایا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے حملے میں مقامی آبادی میں تشنج اور سانس کی غیرمعمولی تکالیف شروع ہوئیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے لوگ نڈھال ہوتے اور تڑپتے ہوئے جان دے دیتے۔