.

موصل میں داعش کے عراقی فورسز پر پانچ خود کش کار بم حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کے شمالی شہر موصل کے مغربی علاقے الرفاعی میں داعش کے جنگجوؤں نے بدھ کے روز سرکاری سکیورٹی فورسز پر پانچ خودکش کار بم حملے کیے ہیں۔

داعش کے ان حربوں کے باوجود عراقی فورسز کے ایک کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عبدالغنی الاسدی نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا ہے کہ ایلیٹ انسداد دہشت گردی سروسز (سی ٹی ایس) کے فوجی الرفاعی اور نجار کے علاقوں کی جانب تیزی سے پیش قدمی کررہے ہیں۔وہ دریائے دجلہ کے مغربی کنارے کی جانب پہنچنے کی کوشش کررہے ہیں تاکہ شہر کے قدیم حصے کا مکمل محاصرہ کیا جاسکے۔

انھوں نے بتایا کہ داعش نے گذشتہ دو روز کے دوران میں ان کے فوجیوں کا راستہ روکنے کے لیے تیس خودکش کار بموں سے حملے کی کوشش کی تھی۔انھوں نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ داعش نے سیحہ کے علاقے میں شہریوں کو زنجیروں میں باندھ دیا تھا اور وہ انھیں انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہے تھے۔

جنرل عبدالغنی کا کہنا تھا کہ ’’ ہم نے اسلحے سے لیس داعش کے جنگجوؤں کو شہریوں کے درمیان نقل وحرکت کرتے دیکھا ہے لیکن ہم نے ان پر حملہ نہیں کیا ہے۔ جب جنگجو خفیہ جگہوں پر پہنچ گئے تو انھوں نے شہریوں کی زنجیریں کھول دی تھیں اور انھیں رہا کردیا تھا‘‘۔

دریں اثناء عراقی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ الزبیدی نے کہا ہے کہ ’’ ہم بہت جلد موصل پر مکمل کنٹرول کا اعلان کرنے والے ہیں اور ہم آنے والے دنوں میں نئے جنگی حربوں کو اختیار کریں گے ‘‘۔

عراق کی وفاقی پولیس کے ایک کمانڈر اور عینی شاہدین نے یہ اطلاع دی ہے کہ داعش کے جنگجو موصل میں اپنے زیر قبضہ علاقے میں مکانوں کے بیرونی دروازوں کے آگے بم نصب کررہے ہیں تاکہ شہری وہاں سے باہر نہ نکل سکیں۔

عراقی فورسز نے گذشتہ روز یہ دعویٰ کیا تھا کہ داعش کے جنگجوؤں کے زیر قبضہ صرف بارہ مربع کلومیٹر کا علاقہ رہ گیا ہے اور وہ وہاں رہ جانے والے ہزاروں شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں۔

عراقی فورسز کے ترجمان نے گذشتہ روز ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ موصل کے مغربی حصے میں داعش کے جنگجوؤں کو صرف بارہ مربع کلومیٹر علاقے تک محدود کردیا گیا ہے اور عراقی فورسز نے ان کا چاروں اطراف سے مکمل محاصرہ کر لیا ہے۔