شام میں داعش نے 19 شہری قتل کرکے لاشیں نذرآتش کردیں

مقتولین میں بچے بھی شامل ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

شام کے مشرقی شہر دیر الزور میں دہشت گرد تنظیم داعش نے دو بچوں سمیت 19 عام شہریوں کو بےدردی کے ساتھ قتل کرنے کے بعد ان کی لاشیں نذرآتش کردیں۔

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے’آبزرویٹری‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ واقعہ دیر الزور گورنری میں ڈیموکریٹک فورسز کے زیرکنٹرول علاقوں میں پیش آیا۔

آبزرویٹری کا کہنا ہے کہ داعشی جنگجوؤں نے دیر الزور کے شمال مغربی قصبے جزرہ البوشمس میں دراندازی کے بعد وہاں موجود 19 عام شہریوں کو پکڑ کر قتل کردیا۔ ان میں دو بچے اور دو خواتین بھی شامل ہیں۔ بعد ازاں داعشی دہشت گردوں نے مقتولین کی لاشیں مسخ کیں اور انہیں آگ میں جلا ڈالا۔ تمام افراد کو قطار میں کھڑا کرکے ان کے سروں میں گولیاں ماری گئیں۔

ذرائع کے مطابق داعشی جنگجوؤں نے دیر الزور عسکری کونسل کے تین جنگجوؤں کو اغواء بھی کیا ہے۔ اغواء کیے گئے جنگجو عربوں اور کردوں پر مشتمل سیرین ڈیموکریٹک فورسز سے تعلق رکھتے ہیں۔

خیال رہے کہ دیر الزور گورنری شام میں داعش کے گڑھ سمجھے جانے والےشہر الرقہ کے شمال مغرب میں واقع ہے۔ اس گورنری کا کنٹرول اس وقت شامی ڈیموکریٹک فورس کے پاس ہے۔ ڈیموکریٹک فورس نے گذشتہ برس نومبر میں داعش کے خلاف جنگ کا آغاز کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں