’ڈیموکریٹک فورس‘ کا شام کے تیسرے بڑے ڈیم پر کنٹرول
اتحادی فوج کے حملے میں 80 داعشی جنگجو ہلاک
شام میں امریکی حمایت یافتہ اپوزپشن گروپ ’سیرین ڈیموکریٹک فورسز‘ نے الطبقہ اور الرقہ شہر کے درمیان واقع شام کے تیسرے بڑے البعث ڈیم سے داعشی جنگجوؤں کو نکال باہر کیا ہے۔ ادھر اتحادی فوج کے جنگی طیاروں سے کی گئی بمباری میں شمالی شام میں 80 داعشی جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔
العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق سیرین ڈیموکریٹک فورسز نے البعث ڈیم کا کنٹرول مکمل طور پر سنھبال لیا ہے۔ لڑائی میں شکست کے بعد داعشی جنگجو علاقے سے فرار ہوگئے ہیں۔
خیال رہے کہ البعث ڈیم کا شمار شام کے تین بڑے ڈٰیموں میں ہوتا ہے۔ دریائے فرات پر بنے’فرات ڈیم‘ سے البعث ڈیم 27 کلو میٹر دور الطبقہ اور الرقہ شہروں کے درمیان واقع ہے۔
ادھر اقوام متحدہ کے ہائی کمشن برائے انسانی حقوق نے شام میں لڑنے والے تمام فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ لڑائی میں فوجی اور شہری تنصیبات میں فرق کریں۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں کارروائیوں میں شہریوں کی زندگیوں کو نقصان پہنچانے سے گریز کیا جائے۔ یو این ہائی کمیشن نے داعش کے زیرتسلط علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے شہریوں کو حراست میں لیے جانے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
ادھر شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پرنظر رکھنے والی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ مشرقی شام میں عالمی فوجی اتحاد کے طیارروں کی بمباری میں داعشی خاندانوں کے 80 جنگجو ہلاک ہوگئے ہیں۔
-
شام میں ایرانی فوجی اڈے کے قیام پر امریکی انتباہ
ارکان کانگریس کا وزیرخارجہ و دفاع کو مکتوب
مشرق وسطی -
شام : 2011ء کے بعد پہلی مرتبہ حمص پر بشار حکومت کا مکمل کنٹرول
شام کے شہر حمص کے علاقے الوعر سے اپوزیشن جنگجوؤں اور ان کے خاندانوں کو لے جانے ...
مشرق وسطی -
شام میں سفارت خانہ دوبارہ کھولنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہوا : فرانس
فرانس کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ شام میں سفارت خانہ دوبارہ کھولنے سے متعلق ابھی ...
بين الاقوامى