سعودی "آل الشیخ" خاندان نے خلیجی امیر کے دعوے کی تردید کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

مملکت سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز بن عبداللہ آل الشیخ کے خاندان کی جانب سے ایک وضاحتی بیان جاری کیا گیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک خلیجی ریاست کے امیر (حکم راں) کی جانب سے کیا جانے والا یہ دعوی کہ وہ شیخ محمد بن عبدالوہاب کی اولاد میں سے ہیں.. قطعا بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔

بیان میں باور کرایا گیا ہے کہ شیخ محمد بن عبدالوہاب بن سلیمان بن علی بن محمد کا تعلق بنی تمیم سے ہے۔ شیخ کے صرف4 بیٹوں کی اولاد ہوئی جن کے ذریعے آل الشیخ خاندان کی نسل پھیلی۔ ان چار بیٹوں میں حسين بن محمد بن عبدالوهاب کی اولاد (آل حسين) کہلاتی ہے۔ حسن بن محمد بن عبدالوهاب کی اولاد (آل حسن) ، علی بن محمد بن عبدالوهاب کی اولاد (آل علی) اور عبدالله بن محمد بن عبدالوهاب کی اولاد (آل عبدالله) کے نام سے جانی جاتی ہے۔بنی

شیخ کی آل اولاد صرف ان چار بیٹوں ان کے بیٹوں اور پوتوں پر مشتمل ہے۔ ان چار بیٹوں کی نسل سے ہٹ کر مملکت یا اس کے بیرون کوئی بھی شخص اگر شیخ کے خاندان سے تعلق رکھنے کا دعوی کرتا ہے تو وہ دعوی جھوٹا ہوگا۔ جس طرح ایک خلیجی ریاست کے امیر نے اپنے ملک میں شیخ محمد بن عبدالوہاب کے نام پر مسجد بنائی ہے.. اور دعوی کیا ہے کہ شیخ اُن کے آباء و اجداد میں سے ہیں۔

آل الشیخ خاندان نے مطالبہ کیا ہے کہ مذکورہ مسجد کا نام تبدیل کیا جائے کیوں کہ اس کے آئمہ اور خطیب شیخ محمد بن عبدالوہاب کے نظریات اور طریقہ کار سے کوئی نسبت نہیں رکھتے۔

بیان پر دستخط کرنے والوں میں سعودی عرب کے مفتی اعظم شیخ عبدالعزیز آل الشیخ ، اسلامی امور کے وزیر شیخ صالح بن عبدالعزیز آل الشیخ اور مجلسِ شوری کے اسپیکر شیخ عبداللہ بن محمد آل الشیخ کے علاوہ آل الشیخ خاندان سے تعلق رکھنے والے 200 سے زیادہ علماء اور شرعی عدالتوں کے قاضیان شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں