اسرائیل : یہودی آباد کاروں کے لیے مزید 1500 مکانوں کی منظوری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے لیے مزید ڈیڑھ ہزار مکانوں کی تعمیر کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔

فلسطینی علاقوں میں یہودی آباد کاری کی مخالف غیر سرکاری تنظم ’’ اب امن‘‘ نے جمعرات کے روز اسرائیل کے اس منصوبے کی اطلاع دی ہے۔ تنظیم کی ترجمان نے فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس ہفتے کے دوران میں تین ہزار سے زیادہ مکانوں کی تعمیر کے لیے پیش رفت کی گئی ہے۔

اب امن کے مطابق اسرائیل نے یہودی آبادکاروں کے لیے منگل کے روز ڈیڑھ ہزار مکانوں کا منصوبہ آگے بڑھانے کا اعلان کیا تھا۔ ان کے علاوہ نو سو اور مکانات بھی تعمیر کیے جائیں گے۔ان کی اسرائیلی وزارت دفاع کی منصوبہ بندی کمیٹی نے بدھ کے روز تصدیق کی تھی۔

اسی کمیٹی نے بدھ کے روز 688 مزید مکانوں کی منظوری دی تھی۔اب اس منصوبے پر 60 روز کے اندر اعتراضات دائر کیے جاسکتے ہیں۔

اب امن کی ڈائریکٹر مس ہیگیٹ عفران نے اے ایف پی کو بتایا ہے کہ اس ہفتے کے دوران میں کل 3178 مکانوں کی مختلف سطحوں میں منظوری دی گئی ہے۔یہ منصوبے اب مختلف مراحل میں ہیں۔ یہ مکانات مغربی کنارے میں قائم یہودی بستیوں میں تعمیر کیے جائیں گے۔اسرائیلی حکام نے فوری طور پر اس حوالے سے کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

امریکا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنوری میں برسراقتدار آنے کے بعد سے انتہا پسند اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کی حکومت نے مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی اراضی ہتھیانے کے لیے کارروائیاں تیز کررکھی ہیں۔واضح رہے کہ اسرائیل دریائے اردن کے مغربی کنارے کے لیے جودیا سمیریا کی اصطلاح استعمال کرتا ہے۔

یاد رہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی جنگ میں بیت المقدس ،غرب اردن اور غزہ کی پٹی پر قبضہ کر لیا تھا۔اس نے بعد میں بیت المقدس کو اپنی ریاست میں ضم کر لیا تھا مگر اس اقدام کو امریکا سمیت عالمی برادری تسلیم نہیں کرتی ہے اور ان کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتی ہے۔

اسرائیل تورات اور زبور کے حوالوں سے بیت المقدس کو یہودیوں کے لیے خاص شہر قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہودیوں کو اس شہر میں کہیں بھی بسیرا کرنے کی اجازت ہے۔وہ یروشلم کو اپنا ابدی دارالحکومت بھی قرار دیتا ہے جبکہ فلسطینی اس مقدس شہر کو اپنی مستقبل میں قائم ہونے والی ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں