.

سعودی بحریہ کی کارروائی میں پاسدارانِ انقلاب ایران کے تین اہلکار گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی بحریہ نے اپنے علاقائی پانیوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کے تین اہل کاروں کو اسلحے سے لدی ایک کشتی سمیت پکڑ لیا ہے اور اب ان تینوں مشتبہ افراد سے پوچھ تاچھ کی جارہی ہے۔

ایک سرکاری ذریعے نے بتایا ہے کہ 16 جون کی شب 8 بج کر 28 منٹ پر تین کشتیاں خلیج عرب میں سعودی عرب کے علاقائی پانیوں میں داخل ہوئی تھیں۔ ان پر سرخ اور سفید رنگ کے پرچم لہرا رہے تھے۔سعودی بحری افواج نے ان میں سے ایک کشتی کو پکڑ لیا تھا اور دو بھاگ جانے میں کامیاب ہوگئی تھیں۔

سعودی پریس ایجنسی کی جانب سے سوموار کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ’’ تینوں کشتیاں تیز رفتاری سے سعودی آئیل فیلڈ مرجان کے پلیٹ فارموں کی جانب بڑھ رہی تھیں۔سعودی بحری فورسز نے ان کی جانب انتباہی فائر کیے تھے لیکن ان کشتیوں نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا تھا۔چنانچہ اس کے بعد ایک کشتی کو پکڑ لیا گیا۔تلاشی کے بعد اس کشتی سے ہتھیار برآمد ہوئے تھے جو تخریب کاری کے مقاصد کے لیے استعمال کیے جانے تھے جبکہ باقی دو کشتیاں فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی ہیں‘‘۔

سعودی عرب کی وزارت اطلاعات وثقافت نے بھی اس واقعے کے حوالے سے الگ سے ایک بیان جاری کیا ہے ۔اس میں بحریہ کے ایک ذریعے کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ یہ بظاہر دہشت گردی کا ایک حملہ تھا اور اس کا مقصد ( لوگوں کے) جان ومال کو نقصان پہنچانا تھا۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’’ سعودی مملکت کسی بھی بیرونی جارحیت سے اپنی قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے پُرعزم ہے اور اس مستقل مقصد کے تحت وہ دہشت گردی سے نمٹنے اور اس کے ذرائع کے استیصال کے لیے عزم کا اعادہ کرتی ہے‘‘۔