داعش نے نینویٰ میں آثار قدیمہ کے ساتھ کیا کیا؟
عراق کے شہر نینویٰ میں مقامی حکام نے بتایا ہے کہ سنہ 2014ء کو نینویٰ پر قبضے کے بعد دہشت گرد گروپ ’داعش‘ نے اب تک 360 آثار قدیمہ تباہ کیے ہیں۔
العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق نینویٰ ڈاریکٹوریٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ داعش کے ہاتھوں اب تک 300 مساجد، مزارات اور کئی گرجا گھر بھی مسمار کیے جا چکے ہیں۔
ذرایع کے مطابق داعشی دہشت گردوں نے نینویٰ کی تاریخی مسجد جامع الکبیر، ٹیڑھا مینار، حضرت یونس علیہ السلام کا مزار اور الخضر شہر میں واقع قدیم ترین چرچ دیر ما ایلیا بھی مسمار کردیے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ داعشی دہشت گرد آثار قدیمہ کو مسمار کرنے کی پالیسی کے ساتھ ساتھ انہیں بیرون ملک سمگل کر کے ان کے عوض رقوم بھی بٹورتے ہیں۔
-
دیر الزور میں داعش کے ہاتھوں آثار قدیمہ کی بربادی: ویڈیو
شدت پسند تنظیم دولت اسلامی‘داعش‘ عراق اور شام میں تاریخی آثار قدیمہ کی ...
مشرق وسطی -
داعش نے خزانے کا پتا نہ بتانے پر ماہر آثار قدیمہ کو قتل کیا!
شام اور عراق کے اندر دہشت گردی اور قتل وغارت گری میں سرگرم تنظیم دولت اسلامی " ...
ایڈیٹر کی پسند -
داعش نوادرات اور آثار قدیمہ سے ڈالر بنانے میں سرگرم
آثار قدیمہ کو کھود اور اکھاڑ پھینکنے کی وجہ ڈالر ہیں: ماہرین
مشرق وسطی