.

"فیلق الرحمن" نے دمشق کی عسکری کونسل کا منصوبہ اس لیے مسترد کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں دمشق کے نواحی علاقے الغوطہ میں مزاحمت کاروں کے ایک گروپ "فیلق الرحمن" نے غوطہ دمشق کی عسکری کونسل کے منصوبے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ جیش الاسلام تنظیم کا اس منصوبے پر آمادہ ہونا "میڈیا کے خالی بیانات ہیں"۔

فیلق الرحمن کے ترجمان وائل علوان نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ درحقیقت عسکری کونسل خود منقسم ہے۔ اس وقت دو کونسلیں ہیں جن میں ایک جیش الاسلام کے زیرِ احکامات ہے اور اسی کی جانب سے یہ منصوبہ متعارف کرایا گیا۔ علوان کا کہنا تھا کہ ان دونوں کونسلوں کے متحد ہونے سے پہلے ہم متحد کیسے ہو سکتے ہیں ؟

علوان کے مطابق جیش الاسلام تنظیم کی جانب سے میڈیا کی سطح پر "خالی بیانات" کے رجحان میں اضافہ ہو رہا ہے جب کہ بشار حکومت کے الغوطہ پر حملوں کا جواب دینے کی ذمے داری سے بھاگ رہی ہے۔

علوان نے بتایا کہ دوما شہر میں عسکری کونسل جیش الاسلام تنظیم کی پیروکار ہے۔ اس کے افسران کو جیش الاسلام کی جانب سے اس کے اپنے ارکان کی طرح ماہانہ تنخواہیں موصول ہوتی ہیں۔

یہ بات جیش الاسلام کی جانب سے جاری عسکری اکیڈمی کی تصاویر سے واضح ہو جاتی ہے۔ ان تصاویر میں اس کی عسکری کونسل کے افسران جیش الاسلام کی قیادت کے پیچھے کھڑے نظر آ رہے ہیں۔

جیش الاسلام کی جانب سے "فيلق الرحمن" پر دہشت گرد شمار کی جانے والی تنظیم تحریر الشام کی سپورٹ کے الزامات کے حوالے سے علوان کا کہنا تھا کہ یہ الزامات "حقیقت سے دُور ہیں"۔

علوان نے مزید کہا کہ اختلافات کو ختم کرنے کے لیے ماضی میں جتنے بھی منصوبے پیش کیے گئے جیش الاسلام نے ان سب کو مسترد کر دیا اور میڈیا کے ذریعے فیلق الرحمن پر الزامات ٹھونکنے کی پالیسی پر عمل جاری رکھا۔

اس سے قبل "جيش الإسلام" نے خود کو تحلیل کرنے اور "یونیفائیڈ سیریئن نیشنل آرمی" میں ضم ہونے پر آمادگی کا اعلان کیا تھا۔ 13 جولائی کو جاری ایک وڈیو میں جیش الاسلام نے مشرقی الغوطہ کے بحران کے حل کے واسطے دمشق میں عسکری کونسل کی جانب سے پیش کردہ منصوبے پر اپنی رضامندی کی تصدیق کی تھی۔

دوسری جانب الغوطہ میں عسکری کونسل کے کمانڈر کرنل عمار النمر نے فیلق الرحمن کے ترجمان کی جانب سے عائد کردہ الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ اپنے سابقہ بیانات میں کرنل عمر یہ بول چکے ہیں کہ "ہمارا قصور صرف یہ ہے کہ ہمارا صدر مرکز دوما شہر میں ہے جس پر جیش الاسلام کا کنٹرول ہے۔ ہمارا مقصد تمام عسکری تشکیلوں کو تحلیل کرنا اور شامی نیشنل آرمی قائم کرنا ہے جو شامی حکومت کی فوج کا متبادل ہو"۔