.

لبنانی فوج اور النصرہ فرنٹ کا ثالث راکٹ حملے میں قتل

فوج کا النصرہ پراحمد الفلیطی کے قتل کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان میں عرسال کے مقام پر جاری آپریشن میں النصرہ فرنٹ کے جنگجوؤں اور لبنانی فوج کے درمیان ثالث کا کردار ادا کرنے والے ایک شہری کو قتل اور دوسرے کو زخمی کر دیا گیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لبنانی فوج نے بتایا ہے کہ النصرہ کے ساتھ ثالثی کی مساعی میں سرگرم ایک مقامی شہری احمد الفلطینی کی گاڑی کو النصرہ کی طرف سے راکٹ حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں احمد الفلیطی جاں بحق اور اس کا ایک قریبی عزیز فائز الفلیطی شدید زخمی ہوا ہے۔

لبنانی فوج نے اس حملے کی ذمہ داری فریق مخالف النصرہ فرنٹ پرعاید کی ہے تاہم النصرہ کی طرف سے اس واقعے کی ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔

مقامی ذرائع سے ملنے والی اطلاعات میں بتایا گیا ہے کہ عرسال قصبے کے سابق نائب میئر احمد الفلیطی اپنے ایک دوسرے عزیز کے ہمراہ النصرہ اور لبنانی فوج کے درمیان مفاہمتی کوششوں میں سرگرم تھے۔ گذشتہ روز النصرہ کے ٹھکانوں سے ایک راکٹ سے ان کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں احمد الفلیطنی کی ایک ٹانگ کٹ گئی اور وہ شدید زخمی ہوئے تاہم کچھ دیر بعد وہ اسپتال میں دم توڑ گئے۔

درایں اثناء حزب اللہ ملیشیا کے زیرانتظام میڈیا وار سیل کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے وادی حمید کی شاہراہ پر النصرہ کی ایک میزائل بردار گاڑی کو تباہ کرتے ہوئے متعدد جنگجوؤں کو ہلاک اور زخمی کیا ہے۔

خیال رہے کہ ہفتے کے روز لبنان اور شام کی سرحد پر واقع لبنانی علاقے جرود عرسال میں لبنانی فوج اور النصرہ فرنٹ کے درمیان دوبارہ جھڑپیں شرروع ہوگئی تھیں۔ جمعہ کے روز سے جاری جھڑپوں میں کل دوسرے روز بھی راکٹو کی آوازیں سنائی دیتی رہی رہیں۔

العربیہ اور الحدث چینلوں کے ذرائع کے مطابق شامی فوج کے جنگی طیاروں نے بھی لبنان کی سرحد سے متصل القلمون کے مقام پر بمباری کی ہے۔

عرسال سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق الجرود میں النصرہ فرنٹ کے جنگجوؤں نے حزب اللہ ملیشیا کے ایک مسلح جنگجو کو حراست میں لے لیا ہے۔ گرفتار جنگجو کی شناخت شام کے شہر حمص کےایک رہائشی کے طور پر کی گئی ہے جو لبنان میں حزب اللہ کے ساتھ مل کر دہشت گردی کی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

ذرائع کے مطابق جرود عرسال کی لڑائی میں اب تک کم سے کم 16 حزب اللہ جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔

العربیہ اور الحدث کے نامہ نگاروں کے مطابق عرسال میں لبنانی فوج نے گشت بڑھا دیا ہے اور شامی پناہ گزین کیمپوں کے گرد سیکیورٹی سخت کردی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ دہشت گردی کی کارروائی سے بچا جاسکے۔