حریری کی تشویش کے باوجود امریکا حزب اللہ کا مقابلہ چاہتا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 7 منٹ

لبنان کے وزیر اعظم سعد حریری نے امریکی دارالحکومت کا دورہ کیا اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی انتظامیہ کے ارکان کے ساتھ ملاقاتیں کیں۔ تاہم حیرت انگیز طور پر دورے میں ہونے والی بات چیت کے بارے میں کوئی اختتامی سرکاری بیان جاری نہیں ہوا۔ گزشتہ چند روز کے دوران العربیہ ڈاٹ نیٹ نے اس دورے کے دوران ہونے والی پیش رفت کی حقیقت جاننے کی کوشش کی اور اس سلسلے میں تین سرکاری شخصیات سے گفتگو کی جنہوں نے اس طویل اور جامع دورے پر گہری نظر رکھی ہوئی تھی۔

امریکی انتظامیہ آج یہ سمجھتی ہے کہ اس نے لبنانی وزیراعظم کا بہترین ممکنہ انداز میں استقبال کیا۔ امریکی صدر نے سعد حریری کے ساتھ انفرادی ملاقات کی اور پھر ایک بڑے وفد کے ساتھ ملاقات ہوئی۔ اس کے علاوہ حالیہ یادداشت میں پہلی مرتبہ امریکی صدر کی کسی لبنانی وزیراعظم کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس دیکھنے میں آئی۔

اہم بات یہ ہے کہ امریکی انتظامیہ نے لبنانی وزیراعظم سے ایران یا حزب اللہ کے خلاف کسی دُھواں دھار بیان کا مطالبہ نہیں کیا۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کی جانب سے اس سلسلے میں استفسار پر امریکیوں کا کہنا تھا کہ وہ حریری کا موقف سمجھتے ہیں لہذا شدید نوعیت کے بیان کی کوئی ضرورت نہیں۔ امریکیوں کے مطابق "ہم جانتے ہیں کہ حزب اللہ نے ہی حریری کے والد کو ہلاک کیا"۔

ادھر امریکی وزارت خارجہ نے پناہ گزینوں کا بوجھ برداشت کرنے کے لیے لبنان کو 14 کروڑ امریکی ڈالر کی امداد دینے کا اعلان کیا.. جب کہ امریکی کانگریس نے حریری کے واشنگٹن پہنچنے سے پہلے ہی حزب اللہ پر پابندیوں سے متعلق قانونی بِل کا مسودہ پیش کر دیا تا کہ حزب اللہ اور اس کے حامی یہ خیال نہ کریں کہ بِل کے مسودے کا حریری سے کوئی تعلق ہے۔

لبنانی وزیر اعظم نے اپنے دورہ واشنگٹن کے دوران تین بنیادی معاملات پر بات چیت کی کوشش کی۔ ان میں پہلا : لبنان بالخصوص لبنانی فوج کے لیے امریکی سپورٹ کو برقرار رکھنا، دوسرا : لبنان میں شامی پناہ گزینوں کی میزبانی کے سلسلے میں امریکی امداد جاری رکھنے کی درخواست اور تیسرا : سرماریہ کاری فنڈ کے لیے مالی رقوم کو لے کر آنا۔

امریکیوں کے نزدیک واشنگٹن میں لبنانی وزیر اعظم کی طویل حاضری لبنانیوں کی چاہت کو پیش کرنے میں مددگار ثابت ہوئی۔ تاہم حریری امداد کے معاملے میں واضح اور تحریری کامیابی پیش کرنے میں عملی طور پر ناکام رہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ دنیا بھر میں امریکی عطیات پروگرام میں کمی کر رہی ہے اور ابھی تک اس نے اپنی رائے میں تبدیلی نہیں کی۔ لبنانی اس وقت رقوم میں اضافے کے لیے ارکان کانگریس کی مدد اور امریکی وزات خارجہ اور وزارت دفاع کی ہدایات پر انحصار کر رہے ہیں۔

شامی پناہ گزینوں کے معاملے میں لبنانی وفد نے دوٹوک انداز میں باور کرایا کہ یہ پناہ گزین ایک بوجھ ہیں اور آج کے بعد لبنان اس بوجھ کا متحمل نہیں ہو سکتا لہذا عالمی برادری پر لازم ہے کہ وہ اس امر میں مدد کرے۔ لبنانی وفد کی جانب سے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق یورپ یا امریکا میں مقیم ایک شامی پناہ گزین پر آنے والا سالانہ خرچ 50 ہزار ڈالر کے قریب ہے جب کہ اگر لبنان کو فی پناہ گزین 20 ہزار ڈالر مل جائیں تو وہ ہر پناہ گزین کے لیے روزگار ، تعلیم اور قیام کے مواقع فراہم کر سکتا ہے۔

بہرکیف یہ بات اپنی جگہ باقی ہے کہ لبنانیوں کے لیے سب سے بڑی فکر "یہ ہے کہ واشنگٹن حزب اللہ کے ساتھ کس طرح نمٹے" گا۔ لبنانیوں کے اندر یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے سامنے ایک واضح ہدف ہے اور وہ ہے ایران اور حزب اللہ کا مقابلہ کرنا۔ تاہم لبنانی یہ بھی نہیں چاہتے کہ معاملات ان کے سامنے پھٹ پڑیں اور وہ حالات کو قابو نہ کر پائیں۔ دورہ واشنگٹن میں سعد حریری اور لبنانی وفد نے ایک سے زیادہ مرتبہ یہ باور کرایا کہ "حزب اللہ کا مسئلہ ایک علاقائی اور بین الاقوامی مسئلہ ہے لہذا اسی بنیاد پر اس مسئلے سے نمٹا جانا چاہیے"۔

امریکی ذمے داران کے ساتھ ملاقاتوں میں لبنانی وفد نے اس امر پر اصرار کیا کہ لبنانی بینکنگ سیکٹر کو تنہا نہ کیا جائے۔ لبنانیوں کو سب سے زیادہ یہ قول تشویش میں مبتلا کرتا ہے کہ لبنانی بینکنگ سیکٹر حزب اللہ کی منی لانڈرنگ کی کارروائیوں کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کر رہا ہے۔ اسی کے ساتھ لبنانی بینکنگ سیکٹر کو خطرناک شمار کر کے امریکی پابندیوں کے خوف سے بین الاقوامی بینکوں نے اس کے ساتھ لین دین کا سلسلہ روک دیا۔

ایسا نظر آتا ہے کہ لبنانی وفد یہ واضح کرنے میں کامیاب ہو گیا کہ حزب اللہ کے لیے فنڈنگ یا منی لانڈرنگ کا حصہ بننے والے کسی بھی ادارے کا تحفظ ممکن نہیں ہے اور اگر امریکا نے یہ بات قبول بھی کر لی ہے کہ سیاسی حالات بعض سیاست دانوں کو حزب اللہ کے ساتھ معاملات پر مجبور کر دیتے ہیں مثلا حکومت یا پارلیمانی امور میں شرکت وغیرہ تو یہ بات جان لینا چاہیے کہ حزب اللہ کے ساتھ مالی یا سرمایہ کاری کے معاملات کرنے پر کوئی بھی مجبور نہیں ہے۔

اس کے مقابل امریکیوں نے لبنانی وزیر اعظم کو باور کرایا کہ وہ حزب اللہ پر پابندیاں عائد کرنا چاہتے نہ کہ لبنانی معیشت یا لبنانیوں کو ضرر پہنچانا۔

دوسری جانب لبنان کے علاقے عرسال میں حزب اللہ کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کے خلاف معرکہ آرائی کے حوالے سے لبنانی وفد نے امریکیوں کے سامنے اپنی فوج کی ساکھ کا تحفظ کیا۔ لبنانی فوج نے وزارت خارجہ اور وزارت دفاع دونوں کو آگاہ کر دیا تھا کہ وہ حزب اللہ کو کسی قسم کی سپورٹ پیش نہیں کر رہی ہے اور فوج کا کام صرف شام کی اراضی سے دراندازی کرنے والے دہشت گردوں کو روکنا اور لبنانی شہریوں کی حفاظت کرنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں