پاکستان کے دفتر خارجہ نے سعودی عرب پر یمنی حوثیوں کے تازہ میزائل حملے کے بعد اس امر کا اعادہ کیا ہے کہ باہمی دفاع کے معاہدے کے تحت پاکستان سعودی عرب کے خلاف بیرونی جارحیت کو روکنے کے لیے کمٹڈ ہے۔ کیونکہ دفاعی معاہدے کی رو سے ایک پر حملہ دوسرے ملک پر حملہ سمجھا جائے گا۔
دفتر خارجہ پاکستان کی طرف سے یہ بیان جمعرات کے روز سامنے آیا ہے۔ اس سے قبل یمنی حوثیوں نے سعودی عرب پر میزائل حملہ کیا تھا۔ اس ہفتے کے دوران حوثیوں نے مملکت پر میزائل داغے اور موقف اختیار کیا کہ یہ یمن میں حوثیوں کے زیر کنٹرول ایئر پورٹ پر سعودی حملے کے جواب میں میزائل داغے گئے ہیں۔ تاہم سعودی حکام کے مطابق حوثیوں کے میزائل حملے کو مملکت کے جنوبی حصے میں روک لیا گیا۔
پچھلے سال ماہ ستمبر میں پاکستان اور سعودی عرب نے ایک دفاعی معاہدے پر دستخط کیے تھے۔ جس کے تحت طے پایا ہے کہ ایک ملک پر ہونے والا حملہ دونوں پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ اسی دفاعی معاہدے کے پس منظر میں پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں یہ بیان دیا ہے۔
طاہر اندرابی نے سعودی عرب کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے تمام تر معاہدوں بشمول دفاعی معاہدے پر عمل کے لیے گہری کمٹمنٹ رکھتا ہے۔
چند روز پہلے وزیر اعظم پاکستان میاں شہباز شریف نے بھی یمنی حوثیوں کے سعودی عرب پر بیلسٹک میزائل حملوں کی مذمت کی تھی۔ انہوں نےخبردار کیا تھا کہ ان حملوں سے خطہ مزید غیر مستحکم ہو گا۔ کیونکہ پہلے ہی مشرق وسطیٰ کشیدگی کا شکار ہے۔