.

امریکا کے خلاف دھمکیوں میں شمالی کوریا کو ‘روحانی’ سہارا مل گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اپنے متنازع میزائل پروگرام، امریکی فوجیوں کو جہاں ہے اور جیسے ہے کی بنیاد پر نشانہ بنانے اور واشنگٹن مخالف نعروں کے حوالے سے بالکل اسی راہ پر چل رہا ہے جس پر ان دنوں شمالی کوریا گامزن نظر آتا ہے۔

ایران نے اپنا تازہ ترین موقف پیش کیا ہے جس میں ایرانی صدر حسن روحانی نے پیونگ یانگ کی جانب سے میزائل تجربات اور امریکا کو دی جانے والی دھمکیوں کا شد ومد سے دفاع کیا ہے۔ صدر روحانی کے بقول “شمالی کوریا نے حفظ ماتقدم کے طور پر ایسا راستہ اختیار کیا ہے کیونکہ واشنگٹن کھلے عام شمالی کوریا کو دھمکا رہا ہے، جس کے بدلے اسے نئے بم بنانے کا حق حاصل ہے۔”

خطرناک کھیل

ایرانی صدر کی سرکاری ویب سائٹ کا کہنا ہے کہ بدھ کے روز کابینہ کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ “ایٹمی صلاحیت کے حامل ملکوں کی جانب سے دھمکیاں خطرناک کھیل ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ایسے میں مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کرنا چاہئے۔”

ادھر ایرانی وزیر دفاع امیر حاتمی نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک ٹھیک نشانے پر لگنے والے کروز اور بیلسٹک میزائل بنانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت سامنے آیا ہے کہ جب شمالی کوریا کی جانب سے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی تیاری سے پیدا ہونے والا بحران دنیا کو پریشان کئے ہوئے ہے، جس سے بڑے پیمانے پر نیوکلیئر جنگ چھڑنے کے خطرات پیدا ہو گئے ہیں۔

عربی زبان میں نشریات پیش کرنے والے ایران کے “العالم” ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے امیر حاتمی نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ میزائل ٹکنالوجی میں بڑھوتری ان ملکوں کے لئے سد جارحیت کا درجہ رکھتی ہے جو ایران کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں۔ یہی منطق شمالی کوریا کے رہنما نے اپنا رکھی ہے جسے وہ اپنے ملک کی میزائل اور ایٹمی ٹکنالوجی میں اضافے کے جواز کے لئے پیش کرتے ہیں۔

ماہرین کے دورے

بیلسٹک میزائل ٹکنالوجی کے میدان میں ایران اور شمالی کوریا کے درمیان تعاون گذشتہ کئی برسوں سے جاری ہے۔ دونوں ملکوں کے ماہرین ایک دوسرے کے ہاں دوروں کے ذریعے مہارت کا تبادلہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔

متعدد رپورٹس میں اس بات کی تصدیق ملتی ہے کہ شمالی کوریا کے میزائل ماہرین کئی کئی ماہ سپاہ پاسداران کے راکٹ کمانڈ سینٹر میں گذارتے ہیں۔

سپاہ پاسداران انقلاب کا میزائل یونٹ 1985 میں قائم کیا گیا جس نے 1993 میں شمالی کوریا کے تعاون سے بیلسٹک میزائل تیار کیا جو ایٹمی وار ہیڈ لیجانے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

نیز 1996 شمالی کوریا کے بیلسٹک میزائل پروگرام ماہرین کے تعاون سے سپاہ پاسداران کا ائر فورس ونگ بنایا گیا جسے خطے کے ممالک بشمول لبنان، فلسطین، یمن، عراق اور شام میں ایرانی سرگرم ایرانی ملیشیاوں کی مدد کو بھیجا جاتا رہا۔ یمن سے سعودی عرب پر داغے جانے والے میزائل بھی شمالی کوریا کے تعاون سے سپاہ پاسداران انقلاب ہی کے تیارکردہ ہیں۔

قدیم تعلقات

تہران اور پیونگ یانگ کے تعلقات اسی کی دھائی سے ہیں۔ ان کی بنیاد امریکا دشمنی کے مشترکہ اصول پر ہے۔ اسی اصول کو بنیاد بنا کر دینی نظریئے پر قائم اسلامی حکومت اور ایسی کیمونسٹ ریاست کے درمیان دیرینہ تعلقات چلے آ رہے ہیں کہ جو دین کو عوام کے لئے ایک نشہ سمجھتا ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان نظریات اور عقائد کے اختلاف کے باوجود یہ اپنے قومی مفاد کے لئے متحد ہیں۔

خامنہ ای کا دورہ شمالی کوریا

اسی کی دہائی میں ایران کے آیت اللہ علی خامنہ ای اور سابق صدر ہاشمی رفسنجانی شمالی کوریا کا دورہ کر چکے ہیں۔ ان تعلقات میں اس وقت اہم موڑ آیا جب پیونگ یانگ نے عراق جنگ کے دوران شمالی کوریا نے ایران کو اسلحہ دیا۔

دیرینہ تعلقات اور تیل کی دولت سے مالا مال ایرانی سرمائے نے شمالی کوریا کو بین الاقوامی طور پر ممنوعہ اسلحہ کی تجربہ گاہ بنا دیا۔ دوسری جانب تہران شمالی کوریا میں تیار ہونے والے ہلکے اسلحہ کی منافع بخش منڈی بن گیا جن سے حزب اللہ، حوثی اور بشار الاسد سمیت تمام ہی نے استفادہ کیا۔