.

آستانہ: شام میں 6 ماہ کے لیے سیف زونز کے قیام پر اتقفاقِ رائے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام سے متعلق آستانہ مذاکرات کے اختتامی بیان میں سیف زون کے حوالے سے اتفاق رائے تک پہنچنے کا اعلان کقیا گیا ہے۔

جمعے کے روز آستانہ مذاکرات کے اختتامی بیان کا اعلان کرتے ہوئے قازقستان کے وزیر خارجہ نے بتایا کہ سیف زون کے علاقے شام کی یک جہتی کو متاثر نہیں کریں گے۔

قازقستانی وزیر کے مطابق یہ سیف زون چھ ماہ کے لیے قائم ہوں گے اور ان میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔

انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ شام کے حوالے سے آستانہ مذاکرات کا ساتواں دور اکتوبر کے اواخر میں ہوگا۔

ادھر ایک روسی خبر رساں ایجنسی کے مطابق آستانہ 6 کے اجلاس میں شرکاء شام میں چاروں سیف زون کو فعّال بنانے پر آمادہ ہو گئے۔ ترکی کی خبر رساں ایجنسی اناضول کا کہنا ہے کہ آستانہ میں شام کے صوبے اِدلب میں سیف زون کی حدود کے حوالے سے اتفاقِ رائے ہو گیا ہے۔ مزید برآں اس حوالے سے بات چیت جاری رہے گی کہ اِدلب میں کون سی فورسز تعینات ہوں گی۔

اس سے قبل آستانہ میں موجود ذرائع یہ بتا چکے ہیں کہ اِدلب کے حوالے سے ماسکو ، تہران اور انقرہ کے درمیان نقطہ ہائے نظر میں قربت پائی جاتی ہے جس کے تحت وہاں فائر بندی کی مشترکہ نگرانی عمل میں لائی جائے۔

گزشتہ روز جمعرات کو آستاناہ مذاکرات کے پہلے روز قازقستان کے صدر نے اعلان کیا تھا کہ اگر سلامتی کونسل آمادہ ہوتی ہے تو ان کا ملک امن فوج شام بھیجنے کے لیے تیار ہے۔

ادھر قازقستان کے درالحکومت میں موجود روسی وفد کا کہنا ہے کہ اِدلب میں فائر بندی کی نگرانی کرنا تینوں ضامن ممالک کی ذمے داری ہے۔ وفد نے باور کرایا کہ آستانہ مذاکرات کے چھٹے دور کے شرکاء شام میں 4 سیف زونز پر اتفاق رائے کے قریب ہیں۔