.

جمال عبدالناصر اپنا کھانا سوئٹزرلینڈ سے منگوایا کرتے تھے : عمرو موسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عرب لیگ کے سابق سکریٹری جنرل عمرو موسی کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب میں سابق مصری صدر جمال عبدالناصر کے بارے میں انکشافات نے سابق صدر کے چاہنے والوں کو چراغ پا کر دیا ہے۔

عمرو موسی نے "کتابیہ" کے نام سے شائع ہونے والی یادداشتوں میں سفارت کاری کے میدان میں اپنی کارگزاریوں اور مصری سیاسی زندگی پر روشنی ڈالی ہے جس میں مذکورہ سابق مصری صدر کے حوالے سے بھی بعض واقعات شامل ہیں۔

عمرو موسی کے مطابق جمال عبدالناصر اپنے لیے بیرون ملک بالخصوص سوئٹزرلینڈ سے خصوصی غذا درآمد کرواتے تھے کیوں کہ وہ وزن کم کرنے سے متعلق غذائی نظام کے لیے کوشاں رہتے تھے۔ موسی نے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ میں مصری سفارت خانے میں کام کرنے کے عرصے کے دوران ایک بھاری بھرکم شخص آ کر کھانے کی یہ اشیاء وصول کرتا تھا اور موسی ہی ان چیزوں کو حوالے کرنے کے ذمے دار تھے۔

عمرو موسی نے جمال عبدالناصر کو ایک ایسا آمر قرار دیا جس نے مصر کو ہزیمت سے دوچار کیا۔ موسی کے مطابق عبدالناصر نے مصر کو اپنی شخصیت تک محدود کر لیا تھا۔ موسی کے خیال میں 25 جنوری 2011 کا انقلاب بھڑکنے کی وجہ سابق صدر کی ہی پالیسی ہے۔

عمرو موسی کے مطابق جمال عبدالناصر سے ان کی ملاقات زندگی میں صرف دو مرتبہ ہوئی۔ "پہلی مرتبہ جب میں 21 اکتوبر 1966 کو ایک وفد کے ساتھ نئی دہلی گیا۔ وفد کی صدارت جمال عبدالناصر نے کی جن کو بھارتی وزیر اعظم اندرا گاندھی سے ملاقات کرنا تھی۔ اس موقع پر اندرا گاندھی ، جمال عبدالناصر اور یوگو سلاویہ کے صدر جوزف ٹیٹو کے درمیان تین ملکی سربراہ ملاقات کا فیصلہ کیا گیا"۔

موسی کے مطابق دوسری ملاقات "جون 1967 کی جنگ کی شکست سے چند روز قبل ہوئی جب میں وزیر خارجہ محمود ریاض کے دفتر میں کام کر رہا تھا۔ یہ وہ تاریخ ہے جو عبدالناصر کے عصائے شاہی کا اختتام اور مصر کے حالات بگڑنے کا آغاز شمار کی جاتی ہے۔ جنگ سے قبل عبدالناصر نے خلیجِ عقبہ کی بندش اور سیناء سے بین الاقوامی فوج کے انخلاء کا فیصلہ کیا۔ اس طرح ملک کو ناگفتہ فضاؤں میں غرق کر ڈالا۔

عرب لیگ کے سابق سکریٹری جنرل کے جمال عبدالناصر کے بارے میں بیانات نے سابق صدر کے حامیوں اور پرستاروں میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی اور انہوں نے اس کے جواب کی ٹھانی۔

ادھر میڈیا پرسن مصطفی بکری نے سابق صدر جمال عبدالناصر کے دفتر کے سربراہ سامی شرف کے حوالے سے بتایا ہے کہ عمرو موسی کی یادداشتوں میں جو کچھ کہا گیا ہے ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔

سامی شرف نے جو عبدالناصر کے لیے خریدی جانے والی اشیاء کے ذمے دار تھے.. کہا ہے کہ ایک مرتبہ بھی ایسا نہیں ہوا کہ سابق صدر نے ان کو سوئٹزرلینڈ سے کھانے کی اشیاء خریدنے کے احکامات دیے ہوں بلکہ وہ تو اپنی دوا بھی بیرون ملک سے درآمد نہیں کرتے تھے۔ مصطفی بکری کے مطابق سامی شرف نے عمرو موسی کو چیلنج کیا ہے کہ وہ اپنے دعوؤں کو صحیح ثابت کریں۔

اسی طرح سامی شرف نے عمرو موسی کے اس بیان پر تنقید کی ہے کہ جمال عبدالناصر نے مصر کو 1967 کی جنگ میں ہزیمت سے دوچار کروایا۔ انہوں نے عمرو موسی سے مطالبہ کیا کہ وہ اُس جنگ سے متعلق ہزاروں دستاویزات کا جائزہ لیں تا کہ حقائق کو جان سکیں اور ساتھ ہی ان لوگوں کی یادداشتوں کا بھی مطالعہ کریں جنہوں نے سابق صدر کے ساتھ کام کیا۔