"جمال عبدالناصر کو سوڈان دورے کے دوران زہر دیا گیا"

فلسطینی رہنما کے"العربیہ" کو انٹرویو میں چونکا دینے والے انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

مصر کے سابق صدر جمال عبدالناصر کی موت کے بارے میں ایک فلسطینی سیاست دان نے چونکا دینے والے انکشافات کرتے ہوئے دعوی کیا ہے کہ عبدالناصر کو دو جنوری 1970ء میں دورہ سوڈان کے دوران ایک سازش کے تحت زہر دیا گیا تھا۔ وہی زہر ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوا۔

تحریک فتح کی انقلابی کونسل کے رُکن اور جماعت کے سیاسی شعبے کے سابق ڈائریکٹر عاطف ابوبکر نے ان خیالات کا اظہار "العربیہ" کے پروگرام "سیاسی ڈائری" میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے بتایا کہ انٹیلی جنس ادارے اس وقت اس بات کی چھان بین کر رہے ہیں کہ آیا جمال عبدالناصر کو سنہ 1970ء میں دورہ سوڈان کے دوران زہر دیا گیا تھا یا نہیں۔ نیز ان کی موت طبعی تھی یا زہر دے کر انہیں ہلاک کیا گیا تھا؟۔

عاطف ابو بکر نے بتایا کہ ماہرین کو اس بات کے مضبوط اشارے ملے ہیں کہ جمال عبدالناصر کو آہستہ آہستہ جسم میں سرایت کرنے والی زہر دی گئی تھی جس نے 10 سے 12 ماہ کے اندر اپنا کام دکھانا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں فلسطینی لیڈر نے بتایا کہ سوڈان کے سابق صدر جعفر نمیری اور فلسطینی انقلابی کونسل کے اس وقت کے چیئرمین صبری البنا المعروف "ابو نضال" کے درمیان گہرے مراسم تھے جو باہمی مفادات کی رسی سے بندھے تھے۔ دونوں رہ نماء ایک دوسرے کے مفادات کے لیے کام کرتے تھے۔

جمال عبدالناصر سے گلو خلاصی ابو نضال کی خواہش تھی۔ جمال عبدالناصر اسرائیلی فوج سے حاصل ہونے والے مال غنیمت کی ایک نمائش دیکھنے سوڈان آئے۔ اس نمائش کا اہتمام کرانے والوں میں ابو نضال بھی شامل تھے۔ نمائش میں جمال عبدالناصر کو خطرناک زہر میں ڈبویا ایک پستول تحفے میں دیا گیا۔ عاطف ابو بکر نے استفسار کیا کہ کیا اس وقت کے سوڈانی صدر النمیری بھی اس سازش میں ملوث تھے، بہ ظاہر ایسے ہی لگتا ہے کیونکہ ابو نضال اور النمیری ایک دوسرے کے مفادات کا دفاع کرتے تھے۔

انہوں نے بتایا کہ سوڈانی صدر النمیری نے ابو نضال کو اپنے مخالفین کو کچلنے کے لیے استعمال کیا۔ بیروت میں مقیم حکومت مخالف ایک سوڈانی صحافی محمد مکی بھی ان کی مشترکہ سازش کی بھینٹ چڑھے۔ محمد نضال نے ایک فلسطینی گروپ کی مدد سے محمد مکی کو اغواء کرایا اور اسے لبنان میں موجود سوڈانی سفارت خانے کے حوالے کیا گیا، جہاں سے اسے خطرطوم لایا گیا اور پھانسی دے دی گئی۔ محمد مکی پر"اسرائیل" کا ایجنٹ ہونے کا الزام تھوپا گیا تھا۔

عاطف ابو بکر نے انکشاف کیا ہے کہ سنہ 1967ء میں خرطوم میں لبنانی اور سوڈانی صدور کے درمیان ہوئی ملاقات میں اسرائیلی خفیہ ادارے"موساد" کے بیرون ملک سرگرم یونٹ کے انچارج مائیک ہراری اور اس کا ساتھی ڈیوڈ کمی صحافیوں کے روپ میں شریک تھے۔ یہ ایک بڑا اسکینڈل تھا جس کا سوڈانی حکام کو پتا نہیں چل سکا کہ موساد اس اہم میٹنگ کی جاسوسی کر رہی ہے اور اس نے صحافیوں اور فوٹو گرافروں کی شکل میں اپنے جاسوس ان کے درمیان داخل کر رکھے ہیں۔

عاطف ابوبکر نے بتایا کہ صبری البنا المعروف ابو نضال کا سیاسی وسیکیورٹی کیریئر ہمیشہ متنازع رہا۔ ان پر ایک طرف سوڈانی صدر کے ساتھ مل کر مخالفین کو قتل کرنے الزام عاید کیا گیا اور دوسری جانب براہ راست اسرائیلی ایجنٹ ہونے کا الزام بھی عاید کیا گیا تھا۔ انہی مشکوک سرگرمیوں کی بناء پر یاسر عرفات نے ابو نضال کو سوڈان کے بجائے عراق منتقل کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں