شام میں روسی فوج کی چھتری تلے ایرانی فورسز کی کارروائیاں
شام میں ایرانی پاسداران انقلاب اور دیگر ملیشیاؤں کی موجودگی اور اسدی فوج کے دفاع میں لڑنے کی خبریں روز آتی ہیں مگر اس ضمن میں ایک نئی خبر یہ آئی ہے کہ روسی فوج کی چھتری تلے ایران کی باضابطہ فوج بھی آپریشن میں شامل ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شامی فوج کی حلیف فورسز کے آپریشن کنٹرول روم کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں اعتراف کیا گیا ہے کہ شام کے دیہی علاقوں بالخصوص دیر الزور شہر میں روسی فوج کی چھتری تلے ایران فورسز بھی آپریشن میں حصہ لے رہی ہیں۔
ہفتے کے روز بشارالاسد کے مقرب ٹی وی چینلوں کی جانب سے یہ خبر نشر کی گئی تھی کہ دمشق کے دیہی علاقوں، حتیٰ کہ مشرقی حمص کے بعض گرم محاذوں اور دیر الزور شہر میں اپوزیشن کے خلاف جاری کارروائیوں میں ایرانی فوج بھی شامل ہے۔ رپورٹس کے مطابق بہت سےعلاقے باغیوں سے چھڑانے میں دیگر فورسز کے ساتھ اسدی فوج کو ایرانی فوج کی معاونت بھی حاصل رہی ہے۔ ایرانی فوج کے ساتھ ساتھ حزب اللہ، الحیدریون، فاطمیون، زینبیون، روسی فوج اور سیرین پیپلز فورسز بھی معاون کا کردار ادا کررہی ہیں۔
شامی حلیف قوتوں کے آپریشن کنٹرول روم کی طرف سے یہ تصدیقی بیان شام میں ایران فورسز کی موجودگی کاایک نیا اعتراف ہے، کیونکہ اب تک ایران شام میں اپنی باضابطہ فورسز کی موجودگی کا انکار کرتا چلا آیا ہے۔ ایران کا دعویٰ ہے کہ شام میں اس کے فوجی افسران صرف مشاورتی خدمات انجام دیتے ہیں،محاذ جنگ میں ان کا کوئی کردار نہیں۔
خیال رہے کہ ایران میں جتنے بھی عسکری گروپ موجود ہیں یا دیگر عرب اور مسلمان ممالک میں ایران نواز جنگجو گروپ پائے جاتے ہیں وہ سب کسی نا کسی شکل میں شام میں بھی داخل کیے گئے ہیں۔
-
شام اور عراق میں امریکی فوجی کمان کے مراکز میں رسائی حاصل کی : ایران
ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک سینئر اہل کار کا دعوی ہے کہ ان کا ملک گزشتہ چند ...
مشرق وسطی -
’شام کے مستقبل میں ایران اور بشارالاسد کا کوئی کردار نہیں‘
شام کو مضبوط اور مستحکم دیکھنا چاہتے ہیں: نیکی ہالے
مشرق وسطی -
آستانہ: شام میں 6 ماہ کے لیے سیف زونز کے قیام پر اتقفاقِ رائے
شام سے متعلق آستانہ مذاکرات کے اختتامی بیان میں سیف زون کے حوالے سے اتفاق رائے تک ...
مشرق وسطی