شامی فوج نے داعش کو پورے صوبہ حماہ سے نکال باہر کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

شامی فوج اور اس کے اتحادی جنگجوؤں نے بدھ کےروز مشرقی صوبے حماہ میں شدید لڑائی کے بعد داعش کے زیر قبضہ آخری علاقے بھی خالی کرالیے ہیں اور اس طرح پورے صوبے سے داعش کا صفایا کردیا ہے۔

برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے اطلاع دی ہے کہ تین سال میں یہ پہلا موقع ہے کہ داعش کا اس پورے صوبے میں کہیں کوئی وجود نہیں رہا ہے۔ اس کے جنگجو لڑائی میں مارے گئے ہیں یا وہاں سے پسپا ہوگئے ہیں۔

شامی فوج نے روس کی فضائی مدد سے ستمبر کے اوائل میں حماہ میں داعش کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی تھی۔رصدگاہ کے مطابق شامی فوج نے داعش کے خلاف ایک ماہ کی لڑائی کے بعد قریباً پچاس دیہات اور تزویراتی اہمیت کے حامل قصبے عقیربت پر قبضہ کر لیا ہے۔

اس نے مزید بتایا ہے کہ لڑائی میں داعش کے چار سو سے زیادہ جنگجو مارے گئے ہیں اور فوج اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں کی ہلاکتوں کی تعداد ایک سو نوّے کے لگ بھگ رہی ہے۔ شام کے سرکاری میڈیا نے داعش کے خلاف اس فتح کے حوالے سے فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔تاہم حکومت نواز اخبار الوطن نے یہ اطلاع دی ہے کہ فوج نے مشرقی صوبے حماہ کا دوبارہ مکمل کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔اب حکومت کا دارالحکومت حماہ اور دوسرے علاقوں پر قبضہ ہوچکا ہے۔

تاہم داعش اور دوسرے باغی گروپوں کا شام کے شمال مشرق اور جنوب میں واقع علاقوں پر قبضہ برقرار ہے۔داعش کو شمالی صوبے حلب سے جون میں زبردستی انخلا کے بعد سے پے درپے شکستوں کا سامنا ہے۔اس وقت اس کے مضبوط گڑھ الرقہ کا امریکا کی حمایت یافتہ شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) نے گھیراؤ کررکھا ہے۔ایس ڈی ایف کے جنگجو پڑوس میں واقع صوبے دیر الزور میں بھی داعش کے خلاف لڑرہے ہیں اور وہاں شامی فوج نے الگ سے بھی داعش کے خلاف جنگ برپا کررکھی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں