ادلب میں تشدد روکنے کے لیے فوجی مداخلت کی: ترکی

فوج حرکت میں نہ آتی تو ترک شہر خطرے میں تھے: ایردوآن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن نے کہا ہے کہ شام کے شہر ادلب میں تشدد روکنے اور سرحد پار سے ترکی کو لاحق خطرات کے تدارک کے لیے فوجی مداخلت کی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ترک صدر نے ایک بیان میں کہا کہ ادلب میں جاری لڑائی کے دوران گولے ترکی کے اندر بھی گر سکتے ہیں جس کے نتیجے میں ترک شہریوں کی سلامتی کو خطرات لاحق ہیں۔ اس لیے ہم نے ادلب میں فوجی کارروائی کی ہے۔

ترک صدر کا کہنا تھا کہ ترکی، ایران اور روس کے درمیان شام میں تشدد کی روک تھام کے حوالے سے طے پائے معاہدے کا مقصد بھی شام کے اندر سے پڑوسی ملکوں کو لاحق خطرات کی روک تھام تھی۔

ادھر شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے ’آبزرویٹری‘ ایک بیان میں کہا ہے کہ شام میں ترک فوج کی مداخلت کے مخالفین نے ترک فوجیوں پر فائرنگ کی جس کے بعد فوج واپس بیرکوں میں آگئی ہے تاہم صدر ایردوآن کا کہنا ہے کہ شام میں جیش الحر کے ساتھ مل کر ترک فوج بغیر کسی رکاوٹ کے آپریشن جاری رکھے ہوئے ہے۔

طیب ایردوآن کا کہنا تھا کہ ان کا ملک شام میں تشدد میں کمی لانے کے لیے ایران اور روس کے ساتھ طے پائے معاہدے پر عمل درآمد کررہا ہے۔ شام کے شہر ادلب میں فوجی مداخلت کا مقصد فری سیرین آرمی کے ساتھ مل کر شمالی ادلب میں تشدد پر قابو پانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم آستانا مذاکرات میں ہونے والے فیصلوں پر عمل درآمد کررہے ہیں۔ اگر ترک فوج حرکت میں نہ آئے تو ہمارے شہر غیر محفوظ ہوجائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں