حزب اللہ کے عسکری ونگ کی شہ رگ "طلال حميہ اور فؤاد شكر" کون ہیں ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

حزب اللہ الف سے لے کر یاء تک دہشت گرد تنظیم ہے".. یہ وہ الفاظ ہیں جو منگل کے روز امریکی وزارت خارجہ میں انسداد دہشت گردی کے رابطہ کار نیتھن سیلز نے لبنانی ملیشیا کے لیے امریکی ویژن بیان کرنے کے واسطے استعمال کیے۔

امریکی انتظامیہ کے عہدے دار نے بتایا کہ وزارت خارجہ نے حزب اللہ کے دو ذمّے داروں طلال حمیہ اور فواد شکر کے بارے میں معلومات فراہم کرنے یا ان کی گرفتاری میں معاونت کرنے پر ایک کروڑ بیس لاکھ ڈالر انعام مقرر کیا ہے۔ ان میں طلال حمیہ کے سر کی قیمت 70 لاکھ ڈالر اور فواد شکر کی 50 لاکھ ڈالر مقرر کی گئی ہے۔

طلال حمیہ کی تایخ پیدائش 27 نومبر 1952 ہے۔ اس کا تعلق لبنان کے ضلعے بعلبک کے ایک قصبے طاریا سے ہے۔

وہ ایک سے زیادہ نام رکھتا ہے جن میں طلال حسنی حمیہ اور عصمت مزرعانی شامل ہیں۔ وہ حزب اللہ ملیشیا میں خارجہ سکیورٹی تنظیم کا سربراہ ہے اور دنیا بھر میں متعدد ذیلی گروہوں کے درمیان رابطہ کاری اور ان کو منظم کرنے کا کام انجام دیتا ہے۔

یہ تنظیم لبنان سے باہر ممالک میں دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درامد کی ذمے دار ہے۔

یاد رہے کہ امریکی وزارت خزانہ نے 13 اپریل 2012 کو ایگزیکٹو آرڈر 13224 کے تحت طلال حمیہ کو دہشت گرد قرار دیا تھا کیوں کہ وہ مشرق وسطی اور دنیا بھر میں حزب اللہ کی دہشت گرد سرگرمیوں کو سپورٹ پیش کرتا ہے۔

فواد شکر حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ کے عسکری امور کے مشیر کے منصب پر کام کر رہا ہے۔ وہ حزب اللہ کا ایک سینئر ذمے دار ہے اور جنوبی لبنان میں حزب اللہ کی فورسز کا اولین کمانڈر ہے۔ فواد شکر حزب اللہ کے زیر انتظام اعلی ترین عسکری اتھارٹی میں بھی ذمے داری انجام دے رہا ہے۔ اس اتھارٹی کو "الجہاد کونسل" کا نام دیا گیا ہے۔

فواد شکر 1962 میں بعلبک کے قصبے نبی شیت میں پیدا ہوا اور اس کی عرفیت حاجی محسن ہے۔ وہ 30 برس سے زیادہ عرصے سے حزب اللہ کی دہشت گرد سرگرمیوں میں شریک ہے۔

فواد شکر شام میں مارے جانے والے حزب اللہ کے سینئر کمانڈر عماد مغنیہ کے انتہائی قریب تھا۔ فواد نے 23 نومبر 1983 کو بیروت میں امریکی میرینز کے بیرک میں ہونے والے دھماکوں کی منصوبہ بندی اور اس پر عمل درامد میں مرکزی کردار ادا کیا۔ کارروائی میں 241 امریکی اہل کار مارے گئے تھے۔

یاد رہے کہ حزب اللہ 2013 سے اعلانیہ صورت میں شام میں جاری جنگ میں شریک ہے۔ وہ تہران کی جانب سے لائے گئے ایرانی ، عراقی ، افغانی اور پاکستانی جنگجوؤں کے شانہ بشانہ لڑ کر شامی حکومت کی فورسز کو سپورٹ کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں