.

فٹ بال کپ کے دوران قطر اسرائیلی تماشائیوں کی میزبانی کو تیار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر کی جانب سے پڑوی عرب ممالک کی طرف سے لگنے والے دہشت گردی کے الزامات کے ازالے کے لیے سرتوڑ کوششیں جاری ہیں۔ فلسطینی تحریک حماس کی مدد روکنے اور شام کے معاملے سے علاحدگی کے اعلان کے بعد قطر نے سنہ 2022ء میں ہونے والے فٹ بال ورلڈ کپ کے دوران اسرائیلی تماشائیوں کو اپنے ملک میں آنے کی اجازت دینے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

اسرائیلی اخبار ’یروشلم پوسٹ‘ نے امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کے رپورٹر انتھونی ھارووڈ کا ایک بیان نقل کیا ہے جن کا کہنا ہے کہ قطری سپریم پروجیکٹس کمپٹی کے سیکرٹری جنرل حسن الذوادی نے کہا ہےکہ سنہ 2022ء میں دوحہ میں ہونے والے عالمی فٹ بال کپ کے دوران اسرائیلی تماشائیوں کو شرکت کی اجازت دی جائے گی۔

اخبار ’ایشیا ٹائمز‘ کے مطابق قطرنے دہشت گردی کی پشت پناہی کے الزامات کے اثرات کم کرنے کے لیے بعض ایسے اقدامات کیے ہیں جن سے لگتا ہے کہ قطر سخت دباؤ میں ہے۔ ان اقدامات میں فلسطینی تنظیم حماس کی معاونت سے دست بردار ہونا، اسرائیل اور مغرب کے ساتھ قربت بڑھانا شامل ہیں۔

چند ہفتے قبل امیر قطرنے نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب میں فلسطین کا نام لیے بغیر امریکا میں یہودیوں کو مخاطب کیا تھا۔ حماس نے یحییٰ السنوار کوغزہ کی پٹی کا سربراہ بنانے کے بعد اپنی پالیسی تبدیل کی ہے۔ حماس نے تحریک فتح اور فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ مصالحت اور قطر سے فاصلے بڑھانے شروع کیے ہیں۔

امیر قطر کے خطاب میں شام کا بھی کوئی ذکر نہیں تھا حالانکہ شام میں سرگرم شدت پسندوں اور القاعدہ کے مقرب گروپوں کو قطر کی طرف سے ہمیشہ سپورٹ ملتی رہی ہے۔