.

قطر کی اپنی ساکھ بچانے کی کوشش ، چند ماہ میں 50 لاکھ ڈالر بہا دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

قطر اس وقت اپنے اُن تمام پتّوں کو کھیلنے کی کوشش کر رہا ہے جن کے ذریعے چار ملکی بائیکاٹ کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ اس دوران دوحہ نے تعلقات عامّہ اور میڈیا کے امریکی اداروں کے ساتھ سمجھوتے کیے ہیں۔ اس کے علاوہ وہ جون سے لے کر اب تک امریکی میڈیا میں چلائی گئی مہم کے سلسلے میں 50 لاکھ ڈالر کے قریب خرچ کر چکا ہے۔ اس مہم کا مقصد عرب ممالک کے ساتھ اپنے تنازع میں ہمدردیاں سمیٹنا ہے۔

سیاسی تحقیقی مطالعوں کے مرکز "اوپن سیکریٹس" کے مطابق دوحہ نے صرف 3 ماہ کے دوران 7 پریشر اور لابنگ گروپوں کو استعمال کیا تا کہ دہشت گردی کی سپورٹ کے باعث قطر کو درپیش بائیکاٹ کے اثرات کا مقابلہ کیا جا سکے۔

اگرچہ قطر کی اس سرگرمی کا آغاز اس کے حالیہ بحران سے پہلے ہوا اور بحران کے بعد اس میں اضافہ ہو گیا تاہم کچھ عرصہ قبل دوحہ کے اعلانیہ طور پر ایران کی جانب رخ کرنے سے مذکورہ اداروں کے مواقف کمزور پڑ گئے۔ بالخصوص قدامت پسندوں اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے حلقوں کے بیچ جو قطر کے ایران سے رجوع کرنے کو بہت بڑی مایوسی خیال کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ تصویر کو بہتر بنانے میں ایک بنیادی رکاوٹ دوحہ کی جانب سے متعدد شدت پسند رہ نماؤں کی میزبانی کرنا بھی ہے خواہ ان کا تعلق الاخوان سے ہو یا پھر القاعدہ اور طالبان کے ساتھ مربوط شخصیات ہوں۔