اصلاح پسند ایرانی رہنما خاتمی بھی سپاہ پاسدران کے ہمنوا نکلے
سابق ایرانی صدر اور اصلاح پسند رہ نما محمد خاتمی کی جانب سے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران پہلی مرتبہ ایرانی پاسداران انقلاب اور اس کے زیر نگرانی ایران کے میزائل پروگرام کے لیے سپورٹ کا اظہار کیا گیا ہے۔
خاتمی نے ایرانی نظام کے مخالفین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ "ملک میں نقطہ ہائے نظر میں اختلافات ہو سکتے ہیں مگر نظام کی بنیاد ، قومی مفادات اور بیرونی خطرات کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے کوئی اختلاف نہیں پایا جاتا"۔ یہ بات اصلاح پسند رہ نما میر حسین موسوی کے قریب شمار ہونے والی ویب سائٹ کلمہ نے بتائی۔
سابق ایرانی صدر نے پاسداران انقلاب کے حوالے سے امریکی مواقف پر نکتہ چینی کی۔ واشنگٹن حکومت ایرانی عسکری ادارے کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کے لیے کوشاں ہے کیوں کہ وہ خطے میں امن و امان کو تباہ کرنے اور دہشت گرد ملیشیاؤں کو سپورٹ کرنے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
محمد خاتمی کو پاسداران انقلاب اور مرشد علی خامنہ ای کے حمایت یافتہ سخت گیر حلقے کی جانب سے بڑے دباؤ کا سامنا ہے۔ مذہبی شخصیات کے لیے مخصوص عدالت کی جانب سے جاری فیصلے میں خاتمی کو 23 ستمبر سے سیاست یا میڈیا سے متعلق کسی بھی سرگرمی میں شرکت سے روک دیا گیا۔
اس سے قبل پاسداران انقلاب میں سیاسی بیورو کے سربراہ ید اللہ جوانی نے محمد خاتمی پر غداری اور مغرب کی سپورٹ حاصل کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔ جوانی نے سابق صدر کی گرفتاری اور ان کے خلاف عدالتی کارروائی کا مطالبہ کیا۔