.

کرکوک : عراقی فورسز نے آخری قصبے بھی پیشمرگہ سے واپس لے لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں ایک سکیورٹی ذمے دار نے جمعے کے روز اعلان کیا ہے کہ عراقی فورسز نے کرکوک صوبے میں کرُدوں کے زیر قبضہ آخری قصبوں پر بھی پھر سے کنٹرول حاصل کر لیا۔

عراقی عسکری ذرائع کے مطابق عراقی فورسز پیشمرگہ فورسز کے ساتھ جھڑپوں کے بعد کردستان کے صدر مقام اربیل سے 35 کلومیٹر شمال مغرب میں واقع شہر التون کوبری کی جانب داخل ہو گئیں۔

جمعرات کی شام بھی کرکوک میں کرد مظاہرین اور مسلح عناصر کی عراقی فورسز کے ساتھ جھڑپیں ہوئیں۔ ان کےنتیجے میں انسداد دہشت گردی فورس کے ایک اہل کار سمیت تین افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

ادھر عراق میں ایک مقامی ذمے دار محمد ملا حسن نے جمعرات کے روز بتایا کہ خانقین شہر پر عراقی فورسز کے کنٹرول کے خلاف احتجاج کے دوران کُرد مظاہرین میں شامل ایک شخص ہلاک اور چھ زخمی ہو گئے۔

کرد فورسز منگل کے روز ایران کے ساتھ سرحد پر واقع شہر سے نکل گئی تھیں تا کہ عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کی جانب سے بھیجی گئی عراقی فورسز کے ساتھ تصادم سے بچا جا سکے۔

یاد رہے کہ خانقین شہر جہاں بنیاد طور پر شیعہ کُرد بستے ہیں وہ عراقی کردستان کی سرکاری حدود سے باہر واقع ہے۔

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے بدھ کے روز الحشد الشعبی ملیشیا سمیت تمام مسلح جماعتوں کو کرکوک سے نکل جانے اور صرف مقامی پولیس اور انسداد دہشت گردی کی فورس کو باقی رہنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

کرکوک صوبے کے بعض علاقوں میں گزشتہ چند روز کے دوران بڑے پیمانے پر نقل مکانی دیکھنے میں آئی اور ان علاقوں کو چھوڑ کر جانے والوں کی تعداد ایک لاکھ تک پہنچ گئی۔ اقوام متحدہ نے اُن رپورٹوں پر اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے جن میں شہریوں کی جبری ہجرت اور ان کے گھروں کی تباہی اور لوٹ مار کا ذکر کیا گیا ہے۔