کرکوک: اجتماعی قبر سے عراقی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی 50 لاشیں برآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

عراق کی مشترکہ آپریشنز کمان نے ضلع الحویجہ میں ایک اجتماعی قبر دریافت کی ہے اور اس میں سے فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی پچاس لاشیں برآمد ہوئی ہیں۔

مشترکہ آپریشنز کمان نے ہفتے کے روز ایک بیان میں کہا ہے کہ داعش کے جنگجوؤں نے الحویجہ کے وسط میں واقع گاؤں البکارہ میں دہشت گردی کے حملوں میں سرکاری فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو ہلاک کردیا تھا۔داعش کے جنگجوؤں نے کرکوک کے جنوب مغربی علاقوں میں بھی پولیس اور فوجیوں پر حملے کیے تھے۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ اجتماعی قبر اور اس سے برآمد ہونے والی باقیات کی تحقیقات و تجزیے کے لیے قانونی طریق کار اختیار کیا جائے گا۔

اکتوبر کے اوائل میں فوج کے ذرائع نے بتایا تھا کہ سکیورٹی فورسز نے الحویجہ کے جنوب مشرق میں واقع گاؤں ابو صخرہ سے دو اجتماعی قبریں دریافت کی تھیں اور ان سے فوج اور پولیس کے دسیوں اہلکاروں کی باقیات برآمد کی گئی تھیں۔انھیں بھی مسلح جنگجوؤں نے ہلاک کرکے اجتماعی قبروں میں دفنا دیا تھا۔

8 اکتوبر کو عراقی فورسز نے کرکوک کے جنوب مغرب میں واقع علاقے القضاء کا داعش سے کنٹرول واپس لے لیا تھا اور وہاں سے جنگجوؤں کو نکال باہر کیا تھا۔

کرکوک کے پولیس کپتان حامد العبیدی نے ترکی کی خبررساں ایجنسی انا طولیہ کو بتایا ہے کہ الحویجہ میں فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کی اجتماعی قبروں کی تلاش کے لیے سکیورٹی فورسز کی ٹیمیں مقرر کردی گئی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ 2014ء کے بعد سے دسیوں فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کا کچھ اتا پتا نہیں ہے ۔

واضح رہے کہ جون 2014ء میں داعش اور اس کے اتحادی مسلح جنگجوؤں نے عراق کے شمالی شہر موصل سمیت بہت سے شمال مغربی شہروں اور علاقوں پر قبضہ کر لیا تھا ۔ انھوں نے اپنی یلغار کے وقت سیکڑوں عراقی فوجیوں اور پولیس اہلکارو ں کو اغوا کر لیا تھا۔ پھر ان میں سے دسیوں کو بے دردی سے قتل کرکے لاشیں دریا میں بہا دی تھیں یا پھر اجتماعی قبروں میں دفن کردی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں