حزب اللہ پر لبنانی حکومت اور عوام کی خاموشی تعجب خیز ہے : السبہان
سعودی عرب کے خلیج عربی کے امور کے وزیر مملکت ثامر السبہان نے لبنانی ملیشیا حزب اللہ کی کارستانیوں کے حوالے سے لبنانی حکومت اور عوام کی خاموشی پر اپنی حیرت کا اظہار کیا ہے۔
اتوار کے روز اپنی ٹوئیٹ میں السبہان نے لکھا کہ "عالمی دہشت گردی کے اربابِ اختیار کی ہدایت پر دہشت گرد ملیشیا حزب اللہ کا مملکت کے خلاف اعلان جنگ کر کے اس میں شریک ہونا تعجّب کا باعث نہیں تاہم لبنانی حکومت اور عوام کی خاموشی ضرور تعجّب خیز ہے"۔
ثامر السبہان نے گزشتہ جمعرات کو مطالبہ کیا تھا کہ علاقائی اور عالمی سطح پر مشترکہ اور سنجیدہ عمل کے ذریعے حزب اللہ ملیشیا پر روک لگانے اور اس کو سزا دینے کی ضرورت ہے۔
اس سے قبل سعودی وزیر اپنی ایک ٹوئیٹ میں باور کرا چکے ہیں کہ دنیا بھر میں دہشت گردی اور شدت پسندی کا منبع ایران اور حزب اللہ ہے۔ انہوں نے 8 ستمبر کو ٹوئیٹ میں مزید کہا کہ "جس طرح دنیا داعش کے ساستھ نمٹ رہی ہے اسی طرح اس کے منبع کے ساتھ نمٹنا بھی ناگزیر ہے۔ ہمارے عوام کو امن اور سلامتی کی ضرورت ہے"۔
اسی طرح 4 ستمبر کو کی جانے والی ٹوئیٹ میں ثامر السبہان نے حزب اللہ کے بڑھتے ہوئے جرائم سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ "حزب الشیطان ہماری امت میں جن غیر انسانی جرائم کا ارتکاب کر رہی ہے ان کے اثرات حتمی طور پر لبنان پر مرتب ہوں گے۔ لہذا لبنانیوں کو چاہیے کہ فیصلہ کر لیں کہ آیا وہ اس ملیشیا کے ساتھ ہیں یا اس کے خلاف.. اس لیے کہ عربوں کا خون قیمتی ہے"۔
-
حزب اللہ ملیشیا اور اس کے معاونت کاروں کو سزا دینا ہوگی: السبھان
سعودی عرب کے وزیر برائے خلیجی امور ثامر السبھان نے کہا ہے کہ دہشت گرد تنظیم حزب ...
مشرق وسطی -
قطر بحران انتہائی چھوٹا معاملہ ہے: سعودی ولی عہد
'حزب اللہ' کو سرحدوں سے دور رکھنے کے لئے یمن کی جنگ جاری ہے: شہزادہ محمد
بين الاقوامى -
امریکی کانگریس کی لبنانی حزب اللہ پر نئی پابندیاں عاید
امریکی ایوان نمائندگان نے ایرانی حمایت یافتہ لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ پر نئی ...
بين الاقوامى