اسد رجیم اور اپوزیشن کے درمیان ثالث مقرر کرنے پر بات چیت
قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں تین ممالک ترکی، ایران اور روس کی مساعی سے شامی اپوزیشن اور بشار الاسد کی حکومت کے درمیان تکنیکی اجلاسوں کے بعد آج سوموار کو فریقین بحران کے حل کے لیے ثالث مقرر کرنے پر بات چیت کریں گے۔
العربیہ ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق اسد رجیم اور شامی اپوزیشن کے نمائندوں کے درمیان کل اتوار کے روز آستانہ میں تکنیکی نوعیت کے مذاکرات ہوئے۔ انہی مذاکرات کی روشنی میں آج سوموار اور کل منگل کے ایام میں فریقین بحران کے حل کے لیے ثالث مقرر کرنے پر بات چیت کریں گے۔
شامی اپوزیشن کے ایک باخبر اور مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ آج اور کل کے روز میں ہونے والے اجلاسوں کے دوران قیدیوں اور لاپتا افراد کی تلاش اور رہائی جیسے مشکل معاملے پر بھی بات چیت کی جائے گی۔ اگرچہ شامی حکومت کی طرف سے لاپتا افراد کی فہرست بھی جاری کی گئی ہے مگر انسانی حقوق کے عالمی گروپوں کا کہنا ہے کہ اسد رجیم کی جیلوں میں ہزاروں کی تعداد میں شہری پابند سلاسل ہیں۔ یہ بھی معلوم نہیں کہ تشدد کے نتیجے میں ان میں سے کتنے مارے جا چکے ہیں اور انہیں کہاں دفن کیا گیا ہے۔
اسی سیاق میں یہ اطلاعات بھی آئی ہیں کہ شامی حکومت اور اپوزیشن کے مندوبین ایک غیر جانب دار ثالث کے تقرر پر بھی غور کررہے ہیں۔ فریقین ایک دوسرے کو اپنے لاپتا اور گرفتار افراد کی فہرستیں بھی پیش کریں گے۔ اس ثالث کے ذریعے حکومت اور اپوزیشن پر ایک دوسرے کے گرفتار افراد کی تفصیلات فراہم کرنے کے لیے دباؤ بھی ڈالا جائے گا۔
آستانہ مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے روس کا کردار اہم ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ روس کی طرف سے فریقین پر اجلاس کے دوران مصالحتی کمیٹیوں کی تشکیل کی تجویز پیش کی گئی ہے تاہم اپوزیشن روسی سرگرمیوں کو مثبت خیال نہیں کرتی۔ اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ روس چونکہ آستانہ مذاکرات کے پچھلے چھ ادوار کے دوران نہ صرف شامی فوج کی شہروں پر بمباری کی حمایت کرتا رہا ہے بلکہ روسی فوج خود بھی بمباری کرتی رہی ہے۔
دوسری جانب شامی اپوزیشن کی خواہش ہے کہ مذاکرات کے دوران محاصرہ زدہ علاقوں میں امداد کی رسائی اور غذائی اجناس کی فراہمی کو یقینی بنانے کے عمل میں پیش رفت کی جائے۔ ان میں خاص طور پر جنوبی دمشق کے دیہی علاقے شامل ہیں جو اس وقت شامی فوج کے محاصرے میں ہیں اور متاثرین تک امدادی سامان کی فراہمی معطل ہے۔
خیال رہے کہ شامی اپوزیشن اور حکومت کے درمیان آستانہ مذاکرات کا چھٹا دور وسط ستمبر میں ہوا تھا۔ اس موقع پر قازقستان کے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ تشدد سے محفوظ زونز کے قیام سے شام کی وحدت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا۔
-
آستانہ: شام میں 6 ماہ کے لیے سیف زونز کے قیام پر اتقفاقِ رائے
شام سے متعلق آستانہ مذاکرات کے اختتامی بیان میں سیف زون کے حوالے سے اتفاق رائے تک ...
مشرق وسطی -
آستانہ میں ایران کی بطور ضامن شرکت پر امریکا کی تشویش
امریکی وزارت خارجہ نے آستانہ مذاکرات میں فائربندی کے ضامن ملک کی حیثیت سے ایران کی ...
بين الاقوامى -
جنگ بندی کے نشان زد علاقے شام کی تقسیم کا آغاز ہیں : منذر ماخوس
آستانہ مذاکرات کا عمل دو دھاری تلوار ہے،روس ،ایران کے بیانات نہیں عملی موقف دیکھا ...
مشرق وسطی -
صدر پوتین کی شام میں کل جماعتی کانفرنس بلانے کی تجویز
روس کے صدر ولادی میر پوتین نے کل جمعرات کو اپنے ایک بیان میں شام کے تمام نمائندہ ...
بين الاقوامى -
فرانس کا بشار کے بغیر شامی بحران کے حل کے لیے ٹائم ٹیبل کا مطالبہ
فرانس کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ بڑی طاقتیں شام میں عبوری مرحلے ...
بين الاقوامى -
سلامتی کونسل بشار الاسد کو کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر سزا دے: شامی اپوزیشن
شامی حزب اختلاف نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے صدر بشارالاسد کے خلاف اپنے ...
مشرق وسطی