.

سعودی عرب ان ممالک میں "حزب اللہ کا خاتمہ" چاہتا ہے : ایرانی ایجنسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کے نزدیک شمار کی جانے والی نیوز ایجنسی "مشرق" نے دعوی کیا ہے کہ سعودی عرب شام ، عراق اور یمن میں لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے وجود کو ختم کرنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

ایجنسی نے اس بات کا اقرار کیا کہ حزب اللہ کے عناصر یمن میں حوثی ملیشیا کو تربیت دے رہے ہیں اور وہ عراق اور شام میں بھی جاری لڑائی میں براہ راست شریک ہیں۔

ایجنسی نے منگل کے روز جاری اپنی ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا ہے کہ سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خلیجی امور ثامر السبہان کی جانب سے حزب اللہ ملیشیا پر روک لگانے سے متعلق بیان درحقیقت سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی زبانی سامنے آنے والی سعودی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ سعودی ولی عہد نے گزشتہ جمعے کو اپنے بیان میں یمن میں حوثی ملیشیا پر روک لگانے اور سعودی سرحد پر ایک دوسری "حزب اللہ" تشکیل پانے کی اجازت نہ دینے پر زور دیا تھا۔

ایجنسی نے حزب اللہ ملیشیا اور اس کے حامیوں پر نئی امریکی پابندیوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکی حزب اللہ کو ایران کا دست راست شمار کرتے ہیں لہذا حزب اللہ کے گرد گھیرا تنگ کر کے وہ خطے میں ایرانی رسوخ کو حجم کم کرنا چاہتے ہیں۔

واشنگٹن نے حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا ہوا ہے۔

حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ جون 2016 میں اپنے ایک خطاب میں اعتراف کر چکے ہیں کہ "حزب اللہ کا بجٹ ، آمدنی ، اخراجات اور کھانے پینے کا تمام خرچہ اور ہتھیار اور میزائل وغیرہ سب کچھ ایران سے آتا ہے"۔ نصر اللہ کا مزید کہنا تھا کہ "جب تک ایران کے پاس مال ہے تو ہمارے پاس بھی مال رہے گا"۔