یمن : مقتول حوثی کا یونیورسٹی میں تقرّر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یمن میں صنعاء یونیورسٹی کے سربراہ فوزی الصغیر کی جانب سے جاری ایک سرکاری دستاویز میں حوثی ملیشیا کے ایک مقتول رکن کو یونیورسٹی کے فاصلاتی تعلیم کے مرکز میں بطور اسسٹنٹ پروفیسر مقرر کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ فوزی کا یونیورسٹی کے سربراہ کے طور پر تقرر حوثیوں نے کیا تھا۔

فیصلے کے تحت ڈاکٹر عفیف عبداللہ الرمیمہ کو مرکز میں اسسٹنٹ پروفیسر کے منصب پر مقرر کیا گیا ہے جو دو سال قبل یمن کے جنوب مغرب میں تعز کے علاقے میں حوثیوں کی طرف سے یمنی فوج کے خلاف لڑتے ہوئے مارا گیا تھا۔

تقرر کا فیصلہ 27 مارچ 2017 کو کیا گیا جب کہ الرمیمہ 16 اگست 2015 کو تعز میں ہلاک ہوا اور اس وقت الرمیمہ کی ہلاکت کا اعلان کر دیا گیا تھا اور حوثیوں نے اس پر تعزیت کا اظہار بھی کیا تھا۔

دستاویز کے مطابق (مقتول) پروفیسر کو فاصلاتی تعلیم کے مرکز میں عملی تجربے کے حصول کے واسطے تین برس کے لیے مقرر کیا گیا۔

یہ دستاویز سوشل میڈیا پر وسیع پیمانے پر پھیل چکی ہے جہاں یمنی حلقوں کی جانب سے اس کا بے انتہا مذاق اڑایا جا رہا ہے۔ ایک تبصرے میں کہا گیا ہے کہ "فاصلاتی تعلیم کا مطلب قبر سے تعلیم نہیں ہے۔ اے حوثیوں تم لوگوں نے موضوع کو غلط طور پر سمجھ لیا"۔ ایک دوسرے تبصرے میں کہا گیا کہ "شہید مجاہد قبر سے نکل کر صنعاء یونی ورسٹی کے فاصلاتی تعلیم کے مرکز میں اسسٹنٹ پروفیسر کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ عفیف صاحب آخرت سے تدریس انجام دے رہے ہیں"۔ !

واضح رہے کہ صنعاء یونیورسٹی پر قابض حوثی ملیشیا نے اپنے مخالف سیکڑوں اساتذہ اور اکیڈمکس کو ملازمت سے علاحدہ کرنے کے فیصلوں پر عمل درامد کیا اور ان کی جگہ اپنے نا اہل ارکان کو زبردستی بھرتی کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں