شام سے متعلق بات چیت کا واحد قانونی راستہ جنیوا ہے : ٹرمپ اور ماکروں
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے فرانسیسی ہم منصب عمانوئل ماکروں نے باور کرایا ہے کہ منگل کے روز شروع ہونے والی جنیوا بات چیت ہی شام کے تنازع کے حل کے لیے واحد قانونی فورم ہے۔ دونوں سربراہان نے اس موقف کا اظہار پیر کے روز ایک ٹیلیفونک رابطے میں کیا۔
یہ موقف شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسٹیفن ڈی میستورا کے اُس اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا کہ شامی حکومت نے اتوار کی شام اقوام متحدہ کو بھیجے گئے ایک خط میں آگاہ کیا کہ اس کا وفد شام کے حوالے سے سیاسی مذاکرات کے نئے دور میں شرکت کے واسطے جنیوا نہیں جائے گا۔
ڈی میستورا نے سلامتی کونسل کے ساتھ اجلاس کے دوران بتایا کہ شامی حکومت نے ابھی تک مذاکرات میں اپنی شرکت کی تصدیق نہیں کی ہے۔ ڈی میستورا نے باور کرایا کہ اقوام متحدہ مذاکرات میں شرکت کے لیے شامی حکومت یا اپوزیشن کی طرف سے "کسی پیشگی شرط" کو قبول نہیں کرے گی۔
-
پوتین اور ٹرمپ کے درمیان داعش اور شام پرٹیلیفونک بات چیت
امریکا اور روس کے صدور نے شام کی تازہ ترین صورت حال اور دہشت گرد تنظیم داعش کے ...
بين الاقوامى -
ایسی صورت میں ٹرمپ کے حکم کو نہیں مانوں گا : امریکی فوجی کمانڈر
امریکی فوج کی اسٹریٹجک کمان کے سربراہ جان ہائٹن کا کہنا ہے کہ اگر جوہری ہتھیاروں ...
بين الاقوامى -
ٹرمپ اور ماکروں حزب اللہ اور ایران کا مقابلہ کرنے کی ضروت پر متفق
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز اپنے فرانسیسی ہم منصب عمانویل ماکروں کے ساتھ ...
بين الاقوامى