صنعاء : مسلح حوثی خواتین کے بریگیڈز کا گھروں پر دھاوا
یمن میں مقتول سابق صدر علی عبداللہ صالح کی سیاسی جماعت جنرل پیپلز کانگریس پارٹی کے تمام رہ نما اس وقت نظر بند ہیں اور حوثیوں کی جانب سے جماعت کے قائدین کے خلاف وسیع پیمانے پر گرفتاریوں کی کارروائیاں جاری ہیں۔ اس بات کا انکشاف پارٹی میں سول سوسائٹی تنظیموں کے امور کی نائب سکریٹری جنرل فائقہ السید نے کیا۔
فائقہ نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں بتایا کہ صنعاء میں مسلح خواتین پر مشتمل بڑے گروپ جنہوں نے خود کو الزیبنیات بریگیڈز کا نام دیا ہے اس وقت شہریوں کے گھروں پر دھاوے بول کر خواتین کی تلاشیاں لے رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں گھروں میں شور اور ہنگامہ مچا ہوا ہے۔
إعتزال الكتابة وأي عمل حقوقي أو سياسي أو أي عمل أيا كان.
— المحامي محمد المسوري (@MohAlmaswari) December 4, 2017
قرار نهائي.
بالإعتزال والعزلة النهائية.
ادھر سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کے بہت سے کارکنان نے کسی بھی قسم کی معلومات پوسٹ یا شیئر کرنے کا سلسلہ روک دیا ہے جن میں نمایاں ترین شخصیت سابق صدر کے وکیل محمد المسوری کی ہے۔ غالب گمان ہے کہ یہ اقدام حوثیوں کی جانب سے درپیش دھمکیوں کے سبب کیا گیا ہے۔
-
صنعاء میں عوامی مزاحمت سے یمن کو حوثی ملیشیا سے پاک کرنے میں مدد ملے گی: سعودی کابینہ
سعودی عرب کی کابینہ نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ صنعاء میں یمنی عوام کی ...
بين الاقوامى -
یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح حوثیوں کے حملے میں کیسے مارے گئے ؟
یمن کے دارالحکومت صنعاء میں سابق صدر علی عبداللہ صالح کی ہلاکت سے متعلق اب تک ...
بين الاقوامى -
یمن: ری پبلکن گارڈز نے حوثی ملیشیا کے دسیوں ارکان کو کیسے گرفتار کیا؟
انٹرنیٹ کے ذریعے ایک ویڈیو منظر عا م پر آئی ہے جس میں معزول صدر علی عبداللہ ...
بين الاقوامى