.

صنعاء میں باغیوں کے اہم تزویراتی ٹھکانوں پر سرکاری فوج کا کنٹرول

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کل ہفتے کو یمن کی سرکاری فوج اور حکومت نواز ملیشیا نے دارالحکومت صنعاء کے مشرق میں واقع نھم گورنری کے کئی اہم علاقے حوثی باغیوں سے چھڑا لیے۔

دوسری جانب عرب اتحادی طیاروں نے صنعاء سمیت کئی دوسرے شہروں میں حوثی باغیوں کے ٹھکانوں پر بم باری کی جس کے نتیجے میں باغیوں کو جانی اور مالی نقصان پہنچا ہے۔

یمنی فوج کی ویب سائیٹ پر پوسٹ کی گئی ایک خبر میں فیلڈ ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ نھم گورنری میں حکومتی فوج اور باغیوں کےدرمیان گھمسان کی لڑائی کے بعد حوثی شدت پسندوں کو کئی اہم تزویراتی ٹھکانوں سے محروم کردیا گیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نھم گورنری کے پہاڑی سلسلے الوعرہ میں الرمادہ اور ضبوعہ ڈیم کے درمیان ’التباب السود‘ کے مقام پر حکومتی فورسز نے کنٹرول حاصل کرلیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ لڑائی کے دوران متعدد حوثی باغی ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں تاہم مہلوکین کی تعداد معلوم نہیں ہوسکی۔

مشرقی صنعاء میں نھم گورنری اور اس کے اطراف میں ہفتے کے روز کئی مقامات پر گھمسان کی لڑائی جاری رہی۔ اس دوان سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحادی طیاروں نے بمباری کا سلسلہ بھی جاری رکھا جس کے نتیجے میں صنعاء کے قریب کئی اہم علاقوں سے باغیوں کو نکال دیا گیا۔ تازہ آپریشن میں صنعاء کے قریبی علاقوں سے باغیوں کی شکست دارالحکومت کی طرف حکومتی فوج کی پیش قدمی میں اہم سنگل میل ثابت ہوگی۔

ادھر مغربی یمن کے علاقوں مآرب اور صرواح میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر بم باری کی۔ تازہ لڑائی اور بم باری میں صرواح میں 8 حوثی جنگجو ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔