صالح کا قتل عالمی برادری کے لیے بڑا دھچکا ہے: یمن میں امریکی سفیر
یمن میں امریکی سفیر میتھیو ٹولر کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کے ہاتھوں سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کا قتل امریکا اور عالمی برادری کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ جمعے کے روز ایک ٹی وی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اس کارروائی سے تمام لوگوں کے سامنے حوثی جماعت کا وحشیانہ پن عیاں ہو چکا ہے اور یہ ثابت ہو گیا کہ وہ سیاسی حل پر یقین نہیں رکھتی ہے۔
ٹولر کے مطابق حوثی ملیشیا ایک بیرونی منصوبے پر عمل پیرا ہے جس کا مقصد ریاست کو اس انداز سے تباہ کرنا ہے خطّے اور دنیا کے امن و استحکام پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور عالمی برادری جنرل پیپلز کانگریس پارٹی کے ارکان اور دیگر مخالفین کے خلاف حوثی باغیوں کی کارستانیوں پر شدید تشویش رکھتی ہے۔
ٹولر نے یمنی قبائل پر زور دیا کہ وہ ملیشیا کی شدت پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔
امریکی سفیر کے مطابق حوثی ملیشیا کے اندر ایسے حلقے بھی ہیں جو ملیشیا کی تمام کارستانیوں پر آمادہ نہیں ہوتے۔ اسی جواز کے سبب حوثی ملیشیا کو دہشت گردی کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔ عالمی برادری حوثیوں کے معتدل مزاج ارکان کی مذاکرت کی جانب واپسی کی منتظر ہے۔
یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کو 4 دسمبر کو صنعاء کے جنوب میں اُن کے آبائی علاقے سنحان جاتے ہوئے راستے میں گھات لگا کر قتل کر دیا گیا تھا۔
-
مقتول علی صالح آبائی شہر میں سپرد خاک: ذرائع
جنازے میں بیٹےاور بھتیجے سمیت 20 افراد کی شرکت
بين الاقوامى -
ہلاکت سے ایک روز قبل صالح کے ہاتھ سے تحریر کردہ وصیت
سوشل میڈیا پر یمنی حلقوں کی جانب سے ہاتھ سے لکھی ایک تحریر گردش میں آئی ہے جس کے ...
مشرق وسطی -
حوثیوں کا صالح کی لاش کو صلیبِ احمر کے حوالے کرنے سے انکار
یمن میں حوثی باغی ملیشیا نے جمعرات کے روز صلیب احمر بین الاقوامی تنظیم کی اُس ...
مشرق وسطی