صالح کا قتل عالمی برادری کے لیے بڑا دھچکا ہے: یمن میں امریکی سفیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یمن میں امریکی سفیر میتھیو ٹولر کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا کے ہاتھوں سابق یمنی صدر علی عبداللہ صالح کا قتل امریکا اور عالمی برادری کے لیے ایک بڑا دھچکا ہے۔ جمعے کے روز ایک ٹی وی گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اس کارروائی سے تمام لوگوں کے سامنے حوثی جماعت کا وحشیانہ پن عیاں ہو چکا ہے اور یہ ثابت ہو گیا کہ وہ سیاسی حل پر یقین نہیں رکھتی ہے۔

ٹولر کے مطابق حوثی ملیشیا ایک بیرونی منصوبے پر عمل پیرا ہے جس کا مقصد ریاست کو اس انداز سے تباہ کرنا ہے خطّے اور دنیا کے امن و استحکام پر اس کے منفی اثرات مرتب ہوں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور عالمی برادری جنرل پیپلز کانگریس پارٹی کے ارکان اور دیگر مخالفین کے خلاف حوثی باغیوں کی کارستانیوں پر شدید تشویش رکھتی ہے۔

ٹولر نے یمنی قبائل پر زور دیا کہ وہ ملیشیا کی شدت پسندی کا مقابلہ کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں۔

امریکی سفیر کے مطابق حوثی ملیشیا کے اندر ایسے حلقے بھی ہیں جو ملیشیا کی تمام کارستانیوں پر آمادہ نہیں ہوتے۔ اسی جواز کے سبب حوثی ملیشیا کو دہشت گردی کی فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔ عالمی برادری حوثیوں کے معتدل مزاج ارکان کی مذاکرت کی جانب واپسی کی منتظر ہے۔

یمن کے سابق صدر علی عبداللہ صالح کو 4 دسمبر کو صنعاء کے جنوب میں اُن کے آبائی علاقے سنحان جاتے ہوئے راستے میں گھات لگا کر قتل کر دیا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں