.

شام میں امریکی سفارت کاروں کی واپسی کا منصوبہ رکھتے ہیں : میٹس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزیر دفاع جیمس جیم میٹس کا کہنا ہے کہ داعش تنظیم کے شدت پسندوں کے خلاف لڑائی اپنے اختتام کے قریب آنے اور ملک کی تعمیرِ نو شروع ہونے پر انہیں توقع ہے کہ شام میں امریکی شہریوں کی تعداد میں اضافہ ہو گا ، ان میں ٹھیکے دار اور سفارت کار شامل ہیں۔

اس وقت شام میں دو ہزار کے قریب امریکی فوجی داعش تنظیم کے خلاف برسرِ جنگ ہیں۔ غالب گمان ہے کہ میٹس کا یہ بیان شامی صدر بشار الاسد کو چراغ پا کر دے گا جو پہلے ہی امریکی افواج کو قابض قرار دے کر اس کی موجودگی کو غیر قانونی بول چکے ہیں۔

اس سے قبل میٹس یہ باور کرا چکے ہیں کہ اگر داعش کے شدت پسندوں نے لڑائی کا سلسلہ جاری جاری رکھا تو امریکی افواج شام میں رہیں گی تا کہ تنظیم پھر سے شام میں اپنی جڑیں مضبوط نہ کر سکے۔

یہ پہلی مرتبہ ہے کہ میٹس نے اعلان کیا ہے کہ داعش سے واپس لے لیے جانے والے علاقوں میں سفارت کاروں کی تعداد میں اضافہ ہو گا۔

میٹس کے مطابق ٹھیکے داروں اور سفارت کاروں کی یہ تعداد مقامی فورسز کو دیسی ساخت کے دھماکا خیز آلات ناکارہ بنانے اور شامی اراضی پر کنٹرول کی تربیت دیں گے ۔

میٹس نے یہ واضح نہیں کیا کہ شام میں ذمّے داریاں انجام دینے کے لیے ان سفارت کاروں کی تعداد کتنی ہو گی اور وہ کب وہاں جائیں گے۔ شام میں خانہ جنگی کے سبب امریکا نے بشار حکومت کے ساتھ تعلقات منجمد کر دیے تھے۔

امریکا کے زیر قیادت داعش تنظیم کے خلاف برسر جنگ بین الاقوامی اتحاد بارہا یہ باور کرا چکا ہے کہ اگرچہ واشنگٹن بشار کی سبک دوشی چاہتا ہے تاہم اس کے باوجود مذکورہ اتحاد شامی حکومت کی فورسز کےخلاف لڑنے کے لیے کوشاں نہیں۔

میٹس نے زور دے کر کہا کہ اگر شامی حکومت کی فورسز امریکی منصوبوں کو معطّل کرنے کے لیے متحرّک ہوئیں تو "غالبا یہ ایک غلطی ہو گی"۔

دوسری جانب اس بین الاقوامی اتحاد کے لیے امریکا کے خصوصی نمائندے بریٹ میکگورک نے ایک خط میں اتحاد کے رکن ممالک سے کہا ہے کہ وہ سال 2018 کی پہلی سہ ماہی تک عسکری کارروائیاں جاری رہنے کی توقع رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ داعش کے ہزیمت سے دوچار ہونے اور سیاسی عمل میں نمایاں پیش رفت ہونے تک امریکا شام میں رہنے کے لیے تیار ہے۔