.

انور سادات نے 37 برس قبل ایران کے بارے میں کیا کہا تھا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ستمبر 1981 میں اپنی ہلاکت سے چند روز قبل مصر کے سابق صدر انور سادات نے پارلیمنٹ سے اپنا مشہور خطاب کیا تھا۔ اس خطاب میں سادات نے ایران اور الاخوان تنظیم کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔

سادات نے اُس وقت مصر ، عرب دنیا اور خطّے میں ہونے والی پیش رفت کے حوالے سے اہم انکشافات کیے اور ساتھ ہی خمینی اور ایران میں مُلائی نظام پر نکتہ چینی بھی کی۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ ایران نے قاہرہ کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کے سبب مصر سے تعلقات منقطع کر لیے جب کہ ایران خود اپنی غذائی ضروریات کا ایک تہائی حصّہ اسرائیل سے درآمد کر رہا ہے۔

سادات کا کہنا تھا کہ خمینی نے ایران کا کنٹرول سنبھالا تو وہ روزانہ 65 لاکھ بیرل پٹرول پیدا کر رہا تھا اور ایرانی خزانے میں روزانہ 25 کروڑ ڈالر آ رہے تھے۔ اس کے باوجود خمینی اور اُس کے ملاؤں کی حکومت کے دو برس بعد ہی ایران میں خوراک نہیں رہی اور اب وہ بیرونی دنیا اور اسرائیل سے غذائی اشیاء درآمد کر رہے ہیں جب کہ ایرانیوں کو پٹرول بھی شناختی کارڈ دکھا کر مل رہا ہے۔

سادات نے باور کرایا کہ ایرانی تضاد کا خطرناک ترین پہلو ایران اور اسرائیل کے درمیان ہتھیاروں کی خریداری کا ایک بڑا معاہدہ ہے جس کا ذکر عالمی اخبارات نے کیا ہے۔ باوجود یہ کہ خمینی کا نظام مصر کو تنقید کا نشانہ بناتا ہے اور مصر کے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کرنے پر تہران نے قاہرہ سے تعلقات منقطع کر ڈالے۔