.

باب المندب پر حوثیوں کے قبضے کی صورت میں عالمی خسارہ یہ ہو گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

"یمن میں حوثی ملیشیا نے بین الاقوامی جہاز رانی کو نشانہ بنانے اور آبنائے باب المندب پر قبضہ کرنے کی دھمکی دے رکھی ہے"۔ اس جملے کے اندر بہت سے اقتصادی نتائج پوشیدہ ہیں جو عالمی برادری کے لیے "خطرے کی گھنٹی" بجا رہے ہیں۔ اس حوالے سے عالمی تجارتی نقل و حرکت اور ممالک کے اقتصادی مفادات کو خطرناک دوُر رس اثرات کا سامنا ہے۔

صنعاء میں غیر تسلیم شدہ سیاسی کونسل کا سربراہ اور حوثی رہ نما صالح الصماد بحرِ احمر اور بین الاقوامی جہاز رانی کا راستہ روکنے کی دھمکی دے چکا ہے۔ الصماد کے مطابق یہ تزویراتی اختیارات میں سے ہے جس کی طرف اُس صورت میں جایا جائے گا اگر یمن کے مغرب میں پیش قدمی جاری رکھی گئی اور کوئی بھی سیاسی حل ڈیڈ لاک کا شکار ہو گیا۔

بعض حلقے آبنائے باب المندب کو بحر احمر میں جہاز رانی کی مرکزی "کنجی" کا نام دیتے ہیں۔ بعض لوگ اسے وہ پائپ لائن قرار دیتے ہیں جس کے ذریعے خلیج عربی کا تیل اور مشرقی ایشیا کا سامان دنیا بھر تک پہنچتا ہے۔

یہ ایک آبی گزرگاہ ہے جو خلیجِ عدن کو نہرِ سوئز کے راستے بحرِ احمر اور بحر روم سے جوڑتی ہے۔ سال 1869 میں نہر سوئز کی کھدائی کے بعد اس کی اہمیت میں اضافہ ہو گیا جو دنیا بھر میں شمال اور جنوب کے درمیان جہاز رانی کا مختصر ترین راستہ شمار کیا جاتا ہے۔

آبنائے باب المندب کے راستے عالمی تجارتی نقل و حرکت کا 12% حجم کنٹرول کیا جاتا ہے۔ خواہ یہ مشرقی ایشیا سے نہرِ سوئز کے ذریعے پوری دنیا تک جانے والے تیل کی صورت میں ہو یا سامان کی سطح پر ہو۔

آبنائے باب المندب کے راستے جہازوں اور ٹینکروں کے گزرنے کی کارروائی سے متعلق بین الاقوامی معاہدے تمام غیر ملکی بحری جہازوں کو یہ حق دیتے ہیں کہ وہ تیزی سے بنا کسی توقف کے یہاں سے گزر جایا کریں۔

امریکی توانائی کی معلومات سے متعلق انتظامیہ کے اعداد و شمار کے مطابق باب المندب کے راستے گزر کر روزانہ 38 لاکھ بیرل خام تیل اور تصفیہ شدہ پٹرولیم مصنوعات یورپ ، ایشیا اور امریکا کا رخ کرتی ہیں۔ پٹرول کی مجموعی عالمی تجارت میں اس آبنائے کا حصّہ 6.1% ہے۔ آبنائے باب المندب سے سالانہ 21 ہزار بحری جہاز گزرتے ہیں۔

بحری نقل و حرکت کے ماہرین کا کہنا ہے کہ نہر سوئز سے گزرنے والی عالمی تجارت کے حجم کا 96% سے 98% حصّہ آبنائے باب المندب سے ہو کر آتا ہے۔

آبنائے باب المندب کی بندش کے امکان کے حوالے سے منظر نامے بڑھتے جا رہے ہیں۔ عالمی تیل کی تجارت کو ممکنہ طور پر لاحق نقصان کے حجم کے پیشِ نظر عرب اور دیگر ممالک اس نوعیت کے اقدام کو روکنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ یہ آبنائے ایسے آئل اسٹیشنوں اور تیل کی پائپ لائنوں تک رسائی کو کنٹرول کرتی ہے جو مصر ، سعودی عرب ، متحدہ عرب امارات ، اور قطر کی کمپنیوں کی ملکیت ہیں۔

لہذا باب المندب کی بندش خلیج عربی کے تیل کو نہر سوئز تک پہنچنے سے روک دے گی۔ اس طرح اس تیل کےعبور کرنے کے وقت اور اخراجات میں اضافہ ہو جائے گا۔

رپورٹوں میں توقع ظاہر کی گئی ہے کہ باب المندب کی بندش کی صورت میں تیل کی منتقلی کے لیے روزانہ 4.5 کروڑ ڈالر کے اضافی اخراجات ہوں گے۔ اس کے علاوہ آئل ٹینکروں کے لیے 6000 سمندری میل میں اضافے کے نتیجے میں کارگو اخراجات بھی بڑھ جائیں گے۔