شام کی فضائی حدود میں ایران اور اسرائیل کا آمنا سامنا، اسرائیلی F-16 تباہ
قابض اسرائیلی فوج کے ایک اعلان کے مطابق اس کے لڑاکا طیارے نے ہفتے کے روز ایران کا ایک ڈرون طیارہ مار گرایا۔ طیارے نے شمالی سرحد کی خلاف ورزی کی تھی۔
ادھر شامی علاقے سے ہونے والی فائرنگ کے نتیجے میں ایک اسرائیلی F-16 طیارہ گر کر تباہ ہو گیا تاہم اس کا ہواباز محفوظ رہا۔ یہ بات اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹننٹ کرنل جوناتھن کونریکوس نے ٹوئیٹر پر بتائی۔
'العربیہ' کے نمائندے کے مطابق دونوں اسرائیلی ہواباز زخمی ہوئے۔ ان میں ایک کو درمیانی درجے کے جلے ہوئے زخم آئے جب کہ دوسرا معمولی زخمی ہوا۔ نمائندے کے مطابق اسرائیلی طیاروں نے شام کے اندر ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ شامی فوج کی جانب سے اسرائیلی لڑاکا طیاروں کی جانب میزائل داغے جانے پر مقبوضہ گولان کے علاقے میں خطرے کے سائرن بجائے گئے۔
تفصیلات کے مطابق اسرائیلی فوج نے بتایا ہے کہ ایرانی ڈرون طیارے کو شام کے علاقے تدمر کے تیفور ہوائی اڈّے سے اڑان بھر کر اسرائیل کی جانب آتے ہوئے دیکھا گیا۔ فوجی ترجمان کے مطابق اسرائیلی فضائی دفاع کے نظام نے مذکورہ طیارے کا پتہ چلایا اور پھر اپاچی ہیلی کاپٹر کے ذریعے اسے مار گرایا گیا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ "طیارہ اسرائیل کے اندر گرا اور اس وقت ہمارے پاس موجود ہے"۔
"ایران کی لا متناہی مہم جوئی" سے متعلق اسرائیلی انتباہ
اسرائیلی ترجمان کے مطابق اسرائیل کے ایک F-16 طیارے کو نشانہ بنایا گیا۔ اس دوران دونوں ہواباز اسرائیلی اراضی کے اندر طیارے سے نکل گئے اور اس وقت مکمل طور پر خیریت سے ہیں۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ "ابھی تک ہمیں یہ معلوم نہیں کہ آیا یہ طیارہ شام کی فائرنگ کی زد میں آیا"۔ ترجمان کے نزدیک "یہ واقعہ اسرائیلی سیادت پر ایرانی حملہ شمار کیا جا رہا ہے۔ ایران خطّے کو ایسی مہم جوئی کی جانب کھینچ کر لے جا رہا ہے جس کے اختتام کے بارے میں خود اسے معلوم نہیں"۔
دوسری جانب شام میں بشار حکومت کے زیر انتظام سرکاری ٹی وی نے ایک عسکری ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ فضائی دفاع کے نظام نے اسرائیلی حملے کو پسپا کرتے ہوئے ایک سے زیادہ طیاروں کو نقصان پہنچایا۔ اسرائیلی طیاروں نے شام کے وسطی علاقے میں ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا۔
یاد رہے کہ مذکورہ پیش رفت 7 فروری کو اسرائیل کی جانب سے دمشق کے قریب جمرایا کے علاقے میں سائنسی تحقیق کے مرکز کو نشانہ بنائے جانے کے تین روز بعد سامنے آئی ہے۔ غیرملکی میڈیا کے مطابق غالب گمان ہے کہ فضائی بم باری اسرائیل نے کی جس میں علاقے میں شامی فوج کے ٹھکانوں اور اسلحہ گوداموں کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل کی جانب سے یہ عندیہ دیا جا رہا ہے کہ وہ شام کے علاوہ ایرانی اسلحہ گوداموں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔
علاقائی جنگ کے حوالے سے انتباہ
دو روز قبل بین الاقوامی مبصرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر شام میں متعلقہ فریقوں نے روس کی سرپرستی میں طے پائے گئے مفاہمتی امور کی ریڈ لائن سے تجاوز کیا تو ایک وسیع علاقائی جنگ بھڑکنے کا خطرہ ہے۔
برسلز میں "انٹرنیشنل کرائسز گروپ" کی جانب سے جمعرات کے روز جاری رپورٹ میں مبصرین کا کہنا ہے کہ روس اس بات پر قادر ہے کہ شامی حکومت ، ایران اور حزب اللہ پر مشتمل تکون کے اسرائیل کے ساتھ مفاہمتی سمجھوتے کو یقینی بنا لے جو علاقائی جنگ سے بچنے میں مدد گار ثابت ہو سکتا ہے۔
اسرائیل کے حوالے سے ریڈ لائن یہ ہے کہ شیعہ ملیشیاؤں کے جنگجو مقبوضہ گولان کے پہاڑی علاقے میں فائر بندی کی لائن کے قریب نہ جائیں اور دوسری جانب روس ایران کو اس بات پر قائل کر لے کہ وہ شام میں فوجی اڈّے بنانے کا خطرہ مول نہ لے۔
مبصرین کے نزدیک شام کی جنگ ایک نئے مرحلے میں داخل ہو گئی ہے جہاں روس اور ایران جیسے حلیفوں کی کرم نوازیوں کے سبب بشار الاسد کی حکومت کا "ہاتھ اوپر" ہے۔ البتہ اسرائیل کے لیے یہ صورت حال آرام دہ نہیں جو خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے پر شاید راضی نہ ہو۔ اسرائیل یہ دیکھ رہا ہے کہ "روس کی موافقت سے" شامی حکومت کا ایران ، حزب اللہ اور شام میں سرگرم دیگر شیعہ ملیشیاؤں پر انحصار بڑھتا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ سوچ درست نہ ہو گی کہ اسرائیل کے ہاتھ "چھوٹے" ہیں۔ شام میں ایران کے عسکری مفادات پر روک لگانے کے لیے اسرائیل کو روس کی موافقت حاصل ہے۔ اس کے علاوہ روس طاقت کا توازن بھی چاہتا ہے اور اس بات کی خواہش نہیں رکھتا کہ شامی حکومت ملک کے تمام علاقوں پر کنٹرول حاصل کرے۔