ہمارے حملے ایران اور شامی حکومت کی فورسز پر کاری ضرب ہیں: نیتن ياہو
اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ہفتے کے روز شامی اراضی میں اسرائیلی لڑاکا طیاروں کے حملے ایرانی اور شامی حکومت کی فورسز کے لیے "کاری ضرب" ہیں۔
اتوار کے روز حکومت کے ہفتہ وار اجلاس کے موقع پر اسرائیلی وزیراعظم نے مزید کہا کہ "ہم نے سب پر واضح کر دیا ہے کہ جھڑپ سے متعلق ہمارے اصول کسی طریقے سے تبدیل نہیں ہوں گے۔ جو کوئی ہمیں ضرب لگانے کی کوشش کرے گا ہم اس کو کاری ضرب لگائیں گے"۔
یہ پہلی مرتبہ ہے کہ اسرائیلی فوج نے واضح طور پر شام میں ایرانی اہداف کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے۔
اسرائیل نے ہفتے کے روز شامی حکومت کے اور ایرانی اہداف کو نشانہ بنایا۔ یہ کارروائی شام سے اڑان بھرنے والے ایک ایرانی ڈرون طیارے کی جانب سے اسرائیلی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے بعد سامنے آئی، تاہم تہران نے ایسی کسی بھی خلاف ورزی کی تردید کی ہے۔
بعد ازاں ایک اسرائیلی F-16 طیارہ اسرائیلی اراضی میں گر کر تباہ ہو گیا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ 1982 کے بعد اسرائیلی فضائیہ کا کوئی لڑاکا طیارہ مار گرایا گیا۔
زمینی طور پر العربیہ اور الحدث نیوز چینلوں کے نمائندے نے بتایا ہے کہ مقبوضہ گولان کے علاقے میں اس وقت حالات پرسکون ہیں تاہم ہائی الرٹ کی صورت حال اب بھی قائم ہے۔
اسرائیلی فوج کی جانب سے سرحد پر میزائل بیٹریز اور آرٹلری بیٹریز تعینات کر دی گئی ہیں اور فوجی ٹینکوں کو بھی فرنٹ لائن کی جانب بڑھا دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ محدود تعداد میں ریزرو فوجیوں کو بھی طلب کر لیا گیا ہے۔