.

شام میں عسکری گروپوں کی قید میں آنے والے "داعشی" بچّے کی وڈیو وائرل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی جیشِ حُر نے پیر کے روز اعلان کیا کہ اس نے داعش کے جنگجوؤں پر مشتمل ایک گروہ کو قیدی بنا لیا ہے۔ یہ گروہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب جنوبی اِدلب کے قصبے الخوین میں دراندازی کی کوشش کر رہا تھا۔

پکڑے جانے والے گروہ میں ایک داعشی بچہ بھی ہے جس کی وڈیو سوشل میڈیا پر پھیل چکی ہے۔

وڈیو میں ظاہر ہو رہا ہے کہ یہ بچہ جس کی عمر 13 برس سے زیادہ نہیں، وہ اپنے ارد گرد کے علاقے سے ناواقف ہے اور ایک شخص کو اسلحے کے ساتھ اپنی جانب بڑھتا ہوا دیکھ کر خوف سے گھبرا رہا ہے۔

داعش تنظیم کے ساتھ وابستگی کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے اس بچّے نے بتایا کہ دو برس تک رقّہ میں تنظیم کے ساتھ رہا۔

اپنے جوابات کے دوران اس "داعشی لڑکے" نے ایسا ظاہر کیا کہ وہ تنظیم کی نقل و حرکت سے واقف نہیں اور وہ جنوبی اِدلب کے اس علاقے کو بھی نہیں جانتا جسے داعش نے حملے کا نشانہ بنایا تھا۔ بچّے نے قسم کھاتے ہوئے کہا کہ "واللہ میں ان علاقوں کو نہیں جانتا"۔

یاد رہے کہ داعش نے پیر کے روز جنوبی اِدلب کے قصبے تمانعہ کے اطراف میں حملہ کیا تھا۔

شامی اپوزیشن کے مسلح گروپ جیش النصر کے ایک کمانڈر عبدالمعين المصری کے مطابق داعش کے عناصر نے اتوار کی شب دراندازی کر کے دو دیہات الخوین اور زرزور پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس دوران جنوبی ادلب کے قصبے تمانعہ کے اطراف میں داعش کی پیش قدمی روکنے کے لیے عسکری گروپوں اور تنظیم کے درمیان شدید جھڑپیں بھی ہوئیں۔ مذکورہ کمانڈر نے بتایا کہ عسکری گروپوں نے گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران داعش کا ایک مکمل گروہ قیدی بنا لیا جس میں ایک 13 سالہ بچہ بھی ہے۔