الغوطہ میں دھماکے کے بعد کلورین گیس کے استعمال کی علامات نمودار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع علاقے الغوطہ الشرقیہ میں اتوار کے روز بعض افراد کو اسی نوعیت کی علامات کا سامنا کرنا پڑا ہے جو کلورین گیس سے متاثرہ افراد کو درپیش ہوتی ہیں۔ اس دوران ایک شامی بچّہ موت کا شکار ہو گیا۔

شامی اپوزیشن کی عبوری حکومت کے زیر انتظام وزارت صحت کی مقامی شاخ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق الغوطہ الشرقیہ میں ایک "زور دار دھماکے" کے بعد متاثرہ افراد اور ایمبولینسوں کے ڈرائیوروں کی سانسوں کے ساتھ کلورین گیس چلی گئی۔

بیان میں بتایا گیا ہے کہ کم از کم 18 افراد کو آکسیجن کی فراہمی کے ذریعے علاج مہیا کیا گیا۔

ادھر شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد نے تصدیق کی ہے کہ الغوطہ الشرقیہ پر شامی حکومت کی فوج کی بم باری کے نتیجے میں دم گھٹنے سے ایک بچّہ جاں بحق ہو گیا اور کم از کم 13 شہریوں کو سانس لینے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

تاہم المرصد کی جانب سے اس بات کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے کہ آیا یہ علامات سانس میں زہریلی گیس جانے کا نتیجہ ہیں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کے نمائندے کے مطابق متاثرہ افراد کو جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں الغوطہ میں فیلڈ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ ہسپتال میں مریضوں کا معائنہ کرنے والے ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ زیادہ تر افراد آنکھوں میں خارش اور سانس میں دشواری کے مسائل میں مبتلا ہیں۔

دوسری جانب شامی اپوزیشن کے رہ نما محمد علوش نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں بشار حکومت پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے کیمیائی گیسوں کا استعمال دوبارہ شروع کرتے ہوئے الشیفونیہ کے علاقے کو دو مرتبہ کلورین گیس کے ساتھ بم باری کا نشانہ بنایا ہے۔

رواں سال کے آغاز کے بعد شام کے مختلف علاقوں بالخصوص الغوطہ الشرقیہ اور شمال مغربی شہر سراقب میں کئی بار دم گھٹنے کی علامات سامنے آ چکی ہیں۔

امریکا اور فرانس سمیت مغربی ممالک نے رواں ماہ کے اوائل میں دھمکی دی تھی کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے "ناقابل تردید ثبوت" دستیاب ہونے کی صورت میں وہ فوجی کارروائی کریں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں