مصر: ماں کے بدترین تشدد کا نشانہ بننے والے بچّے کی تصاویر
مصر کے شمالی صوبے کفر الشیخ میں سکیورٹی اداروں نے دوسرے شوہر کے ساتھ مل کر اپنے تین سالہ بیٹے کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنانے والی عورت کو حراست میں لے لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق مذکورہ خاتون نے اپنے شوہر کی معاونت سے بیٹے یحییٰ کے جسم کے مختلف حصوں کو جلایا اور اسے بجلی کے جھٹکے بھی دیے۔ اس کے نتیجے میں بچّے کے جسم پر زخموں کے داغ اور خراشیں نمودار ہو گئیں اور وہ قریب المرگ ہوگیا۔
اس مصری عورت نے یحییٰ کے باپ کے انتقال کے بعد اس کے چچا یعنی اپنے دیور سے شادی کر لی تھی۔ بعد ازاں وہ یحییٰ کو تشدد کا نشانہ بنانے میں اپنے دوسرے شوہر کی معاونت کار بنی۔ اس غیر انسانی فعل کے بعد یحییٰ کو مردہ سمجھ کر یہ عورت اور اس کا شوہر فرار ہو گئے جب کہ پڑوسیوں نے بچے کو ہسپتال پہنچا کر سکیورٹی ادارے کو اطلاع دی۔
سکیورٹی ادارے یحییٰ کی ماں کو پکڑنے میں کامیاب ہو گئے۔ اس نے اپنے بیٹے کو تشدد کا نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے اپنے دوسرے شوہر پر اس کا الزام عاید کیا ہے۔
کفر الشیخ ہسپتال کے طبی ذرائع نے بتایا کہ تین سالہ یحیی کو تشویش ناک حالت میں لایا گیا تھا۔
سرکاری استغاثہ نے بچّے کی ماں کو حراست میں رکھنے اور اس کے مفرور شوہر کو جلد گرفتار کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کیا ہے۔