حوثی ملیشیا طلبہ کو اغوا اور بھرتی کر رہی ہے: یمنی وزیر برائے انسانی حقوق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

یمن میں انسانی حقوق کے وزیر ڈاکٹر محمد عسکر نے مطالبہ کیا ہے کہ یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں کرنے والوں کے تعاقب کے حوالے سے عالمی برادری مداخلت کر کے ذمے داری پوری کرے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے عسکر نے باور کرایا کہ انسانی حقوق کے معاملات آج یمنی حکومت کی اولین ترجیحات میں سے ہیں۔ ان کے علاوہ دیگر ترجیحات میں سکیورٹی اور اقتصادی استحکام، قانون کی بالادستی، عدلیہ کی اصلاح، بدعنوانی کا انسداد اور آزادی رائے شامل ہیں۔ عسکر کے مطابق ان کی وزارت نے یمن میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے متعدد تحقیقی مطالعے تیار کیے۔ ان میں نمایاں ترین مطالعاتی رپورٹیں ایران نواز حوثی ملیشیا کی جیلوں میں جبری طور پر اغوا یا لاپتہ افراد کی موجودگی اور بچوں کی بھرتیوں کو روکنے کے لیے حوثی ملیشیا پر دباؤ کی مُہمیں چلانے سے متعلق تھیں۔ ان رپورٹوں نے معاشرے میں ان خطرات کے حوالے سے آگاہی اور شعور پیدا کیا۔ اس کے علاوہ باغی ملیشیا کی طرف سے بارودی سرنگیں بچھانے اور بچوں کے خلاف بڑے پیمانے پر پامالیوں کے بارے میں بھی رپورٹیں تیار کی گئیں۔

ڈاکٹر عسکر نے بتایا کہ اس وقت بچوں کی بھرتیوں کا معاملہ سب سے زیادہ الم ناک ہے۔ اس کے نتیجے میں مکمل طور پر تشدد کی ماری ہوئی ایک نسل سامنے آئے گی اور دہشت گرد جماعتوں کے لیے یہ تر نوالہ ثابت ہو گی۔ جنگوں سے ان بچوں کے اندر بہت سے بری عادتیں پیدا ہو رہی ہیں مثلا منشیات کا استعمال وغیرہ... باغی ملیشیا ان بچوں کو اپنی اولین صفوں میں بطور انسانی ڈھال استعمال کر رہی ہے۔

عسکر نے بچوں کی بھرتی کے حوالے سے عالمی برادری کی تساہل پسندی پر اپنی برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ باغی ملیشیا نے اسکولوں کا رخ کر لیا ہے تا کہ وہاں سے بچوں کو اغوا کر کے ان کا استحصال کریں۔ یہ سب کچھ یونیسف سمیت بین الاقوامی تنظیموں کی نظروں کے سامنے ہو رہا ہے۔ عسکر کے مطابق ان کی وزارت نے متاثرہ بچوں کو نفسیاتی اور سماجی سپورٹ پیش کرنے کے لیے 25 مردوں اور خواتین پر مشتمل ماہرین کی ایک ٹیم تیار کر کے انہیں خصوصی تربیت فراہم کی ہے۔

عسکر نے یہ بھی بتایا کہ انسانی حقوق کی یمنی وزارت نے اس شعبے میں سرگرم تمام کارکنان کے لیے انتباہ جاری کیا ہے کہ وہ خود کو کسی طور خطرے میں نہ ڈالیں اور مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے حوثی باغیوں کے مقابلے پر آنے سے اجتناب کریں۔ حوثیوں کی جیلوں میں گرفتار افراد کے حوالے سے عسکر نے بتایا کہ ان کی وزارت بین الاقوامی تنظیم صلیب احمر کے ساتھ رابطہ کاری میں ہے تا کہ قیدیوں اور گرفتار شدگان کے تبادلے کی صورت نکل سکے۔

عسکر کے مطابق ان کی وزارت بیرون ملک یمنیوں کے معاملات کی پیروی کے لیے بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ اس سلسلے میں یمنی وزارت خارجہ اور دیگر ممالک میں یمنی کمیونٹیز کے ساتھ رابطہ کاری عمل میں لائی جا رہی ہے۔ اس کا مقصد بیرون ملک بالخصوص عراق اور گوانتانامو میں عدالتی کارروائی کے بغیر زیر حراست یمنیوں کے مسائل سے نمٹنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں