انتہا پسند اخوان المسلمون کی آئینی اولاد ہیں: محمد بن سلمان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے کہا ہے کہ دنیا بھرمیں پھیلے انتہا پسند گروپوں کا تعلق اخوان المسلمون کے ساتھ ہے اور اخوان ہی تمام انتہا پسندوں کی ماں ہے۔

امریکی جریدہ ’ٹائمز‘ کو دیے گئےایک انٹرویو میں محمد بن سلمان نے کہا کہ سعودی عرب انتہا پسندانہ نظریات پھیلنے کا موقع نہیں دے گا۔ سعودی عرب خود انتہا پسندانہ نظریات سے متاثر ہے۔ اگر میں اسامہ بن لادن یا کوئی دوسرا انتہا پسند یا دہشت گرد ہوتا تو میں بھی اپنے مخصوص نظریات کی ترویج کرتا اور اس کے لیے لوگوں کو بھرتی کرتا۔ میں مغرب یا ملائیشیا نہیں بلکہ سعودی عرب کے اندر ہی اپنے نظریات پھیلاتا۔ میں مسلمانوں کے قبلہ اول کی طرف رجوع کرتا اور حرمین شریفین کے میزبان ملک کو اپنا ہدف بناتا کیونکہ یہاں ہونے والی ہر بات کو دنیا کے دوسرے خطوں میں پذیرائی ملتی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سنہ 1979ء کے بعد جو کچھ ہوا، انتہا پسند اور دہشت گرد پیدا ہوئے یہ سب اس کے بعد کی پیداوار ہیں۔ انہوں نے ہمارے پیارے ملک کو ہدف بنایا۔ یہاں کے لوگوں کو ورغلایا اور دہشت گردی پر اکسایا، انہیں بھرتی کیا گیا۔ وہ پوری دنیا میں دہشت گردانہ تعلیمات عام کرنے کے لیے سعودی عرب کو خصوصی طورپر ہدف بنائے ہوئے تھے۔ سعودی عرب دہشت گردی کی قیمت چکانے والا سب سے بڑا ملک ہے۔

دہشت گردی کی پہلی کارروائیاں سعودی عرب اور مصر میں کی گئیں۔ سنہ 1990ء کے عشرے میں سعودی عرب دہشت گردی کا شکار ہوا۔ بن لادن نے سنہ نوے کے عشرے کے اوائل میں لوگوں کو اپنے جال میں پھنسانا شروع کر دیا تھا۔

اسامہ بن لادن سعودی عرب میں نہیں تھا۔ ہم نے اس کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ مگر اسے گرفتار نہیں کیا گیا۔ ہم پر بن لادن کے خلاف کارروائی کے لیے آزادی اظہار رائے کو دبانے کا الزام عاید کیا گیا۔ یہاں تک کہ نائن الیون کا واقعہ پیش آ گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں