.

شام میں کیمیائی حملے کے بعد سلامتی کونسل کے دو الگ الگ ہنگامی اجلاس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں دوما کے مقام پر باغیوں کے خلاف کارروائی کے دوران مبینہ طور پر شامی فوج کی طرف سے کیے گئے کیمیائی حملے کے بعد سلامتی کونسل کے دو الگ الگ اجلاس منعقد کیے گئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سلامتی کونسل کے ایک اجلاس کی درخواست امریکا اور دوسرے کی روس کی جانب سے دی گئی تھی۔ یہ اجلاس ایک ایسے وقت میں منعقد ہوئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام میں کیمیائی حملے کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کی دھمکی دی ہے۔ صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ دوما میں شہریوں پر کیمیائی حملہ کرنے والوں کو بھاری قیمت چکانا ہوگی۔

سفارت کاروں کے مطابق اتوار کو روس کی طرف سے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا گیا۔سلامتی کونسل کے پندرہ رکن ممالک کے اجلاس میں ’عالمی امن وسلامتی کو درپیش خطرات‘ کا موضوع چنا گیا حالانکہ فوری طور پر اس موضوع کے انتخاب کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی۔

روس کی درخواست کے ایک منٹ بعد امریکا، فرانس، برطانیہ، پولینڈ، ہالینڈ، سویڈن، کویت اور پیرو کی جانب سے شام میں مبینہ کیمیائی حملے پر غور کے لیے سلامتی کونسل کے اجلاس کا مطالبہ کیا گیا۔

اقوام متحدہ میں امریکی مندوبہ نکی ہالے نے ایک بیان میں کہا کہ سلامتی کونسل کو چاہیے کہ وہ شام کے حوالے سے متفقہ موقف اختیار کرتے ہوئے طبی عملے کے رضاکاروں کو متاثرہ علاقوں میں پہنچانے کا اہتمام کرے۔ اس کے ساتھ ساتھ سلامتی کونسل شام میں کیمیائی حملے کے سنگین جرم میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرے۔

گذشتہ ماہ بھی امریکی مندوبہ نے خبردار کیا تھا کہ شام میں مزید کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیاجاسکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل شام کے حوالے سے کوئی متحرک کردار ادار کرنے میں ناکام ہے تاہم امریکا کسی بھی قسم کی کارروائی کے لیے تیار ہے۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شام کے شہر دوما میں مبینہ طور پر زہریلی گیس کے حملے میں کم از کم 70 افراد کی ہلاکت پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’اس حملے کی بھاری قیمت ادا کرنی ہو گی‘۔

امریکی صدر نے ٹویٹ میں شام کے صدر بشار الاسد اور ان کے اتحادیوں روس اور ایران کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

توقع ہے کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل پیر کو ممکنہ طور پر اس معاملے پر بحث کرے گی۔ اس کے 15 میں سے نو ارکان نے اس معاملے پر فوری اجلاس کا مطالبہ کیا تھا۔

یورپی یونین نے بھی بین الاقوامی برادری کی جانب سے فوری ردِ عمل کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب برطانیہ نے بھی اس حملے کی فوری تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے جبکہ پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا کوئی جواز نہیں ہے۔

وائٹ ہیلمٹس نامی امدادی کارکنوں کی ایک تنظیم نے ایک ویڈیو نشر کی ہے جس میں متعدد مردوں، عورتوں اور بچوں کی لاشیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ان میں سے کئی کے منھ جھاگ سے بھرے ہوئے ہیں۔

تاہم ہلاکتوں کی تعداد کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی۔ ادھر صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹس میں صدر بشار الاسد کو ’جانور‘ قرار دیا ہے۔