حمد خاندان ترکی اور ایران کو آگے لایا ، ہمیں خلیج سے دُور کر دیا: سلطان بن سحيم
سابق امیرِ قطر کے بھتیجے اور سابق وزیر خارجہ شیخ سحیم آل ثانی کے بیٹے شیخ سلطان بن سحیم آل ثانی نے باور کرایا ہے کہ حمد خاندان کی پالیسی نے قطر کو اُس کے پڑوسی اور برادر عرب ممالک سے دُور کر دیا اور اس کے مقابل ترکی اور ایران کی سپورٹ کو ترجیح دی گئی۔ انہوں نے کہا کہ تاریخ اور قطر کے عوام اس تنہائی اور علاحدگی کے ذمّے داروں پر ہر گز رحم نہیں کھائیں گے۔
استقدموا التركي والإيراني، وأبعدونا عن محيطنا الخليجي، أبعد هذا كله نستغرب أن يدافع جيراننا عن مصالحهم؟!
— سلطان بن سحيم آل ثاني (@Sultan_Al_thani) April 9, 2018
#قاعدة_عسكرية_سعودية_في_سلوى
شیخ سلطان نے اپنی ٹوئیٹ میں لکھا کہ "مجھے انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ قطر کہاں تھا اور اب کہاں پہنچ گیا ؟! ایک وقت تھا جب وہ اپنے پڑوسی اور برادر ممالک کا پیارا تھا اور اب حمد خاندان کے باپ بیٹوں کی پالیسی کے سبب تنہا ہو گیا ہے.. تاریخ ان پر رحم نہیں کھائے گی اور عوام بھی انہیں ہر گز معاف نہیں کریں گے"۔
بكل مرارة وأسى أقولها: أين كانت قطر وكيف بلغت؟! وبعد أن كانت عزيزة بجيرانها وأشقائها، أصبحت معزولة وحيدة بفعل سياسة نظام الحمدين..
— سلطان بن سحيم آل ثاني (@Sultan_Al_thani) April 9, 2018
لن يرحمهم التاريخ ولن يصفح عنهم شعبهم#قاعدة_عسكرية_سعودية_في_سلوى
شیخ سلطان بن سحیم آل ثانی نے مزید لکھا کہ "یہ لوگ ترکی اور ایران کو لے کر آئے اور ہمیں اپنے خلیجی ممالک سے دُور کر دیا۔ اتنا سب کچھ ہونے کے بعد بھی کیا ہمیں اس پر حیرت ہونا چاہیے کہ ہمارے پڑوسی ممالک اپنے مفادات کا دفاع کیوں کر رہے ہیں ؟!"