فلسطینی پر فائرنگ، اسرائیلی وزیر دفاع نے فوجی نشانچی کو تمغے کا مستحق قرار دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اسرائیلی وزیر دفاع اویگڈور لیبرمین نے ایک وڈیو کلپ میں نظر آنے والے اسرائیلی فوج کے اُس نشانچی کو سراہا ہے جس نے اسرائیل اور غزہ پٹی کی سرحد کے بیچ علاقے میں موجود ایک نہتّے فلسطینی پر فائرنگ کر دی۔ اسرائیلی فوج نے مذکورہ وڈیو کلپ کے درست ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

لیبرمین نے منگل کے روز شام کے مقبوضہ گولان کے علاقے میں اسرائیلی فوجی اڈے کا دورہ کیا۔ اس دوران لیبرمین کا کہنا تھا کہ "یہ نشانچی اعزازی تمغے کا حق دار ہے جب کہ وڈیو بنانے والے اہل کار کی ادنی ترین عسکری منصب پر تنزلی کی جانی چاہیے"۔ لیبرمین نے اسرائیلی فوج کو "اخلاق و کردار کی فوج" قرار دیا۔

اسرائیلی فوج نے وڈیو کلپ کے درست ہونے کی تصدیق کی ہے تاہم ساتھ ہی یہ واضح کیا گیا ہے کہ مذکورہ وڈیو دسمبر 2017ء میں کیسوویم کے علاقے میں بنائی گئی اور فائرنگ کا واقعہ ہنگامہ آرائی اور اسرائیلی فوج کی جانب سے خبردار کیے جانے کے بعد پیش آیا۔

اسرائیلی فوج کے مطابق وڈیو میں نظر آنے والا فلسطینی پنڈلی میں گولی لگنے سے زخمی ہوا۔

وڈیو میں اسرائیلی فوجیوں کو عبرانی زبان میں بات چیت کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد کسی نے عبرانی میں کہا کہ "اس کو مار دو، کیا تمہارے پاس گولی ہے؟"

جواب میں اسرائیلی فوج کے نشانچی نے کہا کہ "میں خاردار تاروں کے سبب اسے ٹھیک طرح دیکھ نہیں سکتا"۔ اس کے بعد ایک دوسرے فوجی کی آواز سنی گئی جس نے کہا "یہاں میرے پاس آجاؤ یہاں سے بہتر ہو گا.. کیا تم گلابی کپڑے والے کو نشانہ بناؤ گے؟".

اس کے بعد ایک گولی چلنے کی آواز آئی جس نے گلابی جیکٹ پہنے ہوئے فلسطینی نوجوان کو زخمی کر ڈالا۔ نوجوان فورا زمین پر گر گیا اور اس کے گرد بقیہ لوگ نوجوان کو اٹھانے کے لیے دوڑ پڑے۔ اس کے بعد اسرائیلی فوجیوں کی بلند آوازیں سنی گئیں۔ ان میں ایک نے کہا کہ "کای بات ہے ، کیا بات ہے اس وڈیو کی .. یقینا میں نے وڈیو بنا لی ہے اور اس نوجوان کے سر میں گولی لگی ہے"۔

اسرائیلی فوج کے بیان میں کہا گیا ہے کہ "غزہ پٹی کی سرحد پر کیسوفیم کے علاقے میں شدید جھڑپیں اور ہنگامہ آرائی ہوئی اور وڈیو میں جوابی کارروائی کا بہت کم حصّہ نظر آرہا ہے۔ فلسطینیوں کی جانب سے پتھر پھینکے جانے اور ہنگاموں اور بلوؤں کی کارروائیاں دو گھنٹے تک جاری رہیں۔ انہیں منتشر کرنے کے لیے پہلے زبانی اعلانات کیے گئے اور پھر اس کے بعد ہوائی فائرنگ کی گئی۔ فوج کے مطابق واقعے کی تفصیلی تحقیقات کی جا رہی ہیں"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں