.

شام: حلب اور حماہ کے نواحی ٹھکانوں پر 'نامعلوم' میزائلوں کا حملہ، ایرانی املاک نشانے پر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار حکومت کے ذرائع ابلاغ کے مطابق حماہ کے نواح میں اتوار کی رات زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ حکام کی جانب سے دھماکوں کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ دھماکے سرکاری فوج کے زیر انتظام گولہ بارود کے ایک گودام میں آگ لگنے کے نتیجے میں ہوئے۔ بعض دیگر ذرائع کے مطابق حلب اور حماہ کے نواح میں شامی اور ایرانی فورسز کے ٹھکانوں کو میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔

دوسری جانب شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے "میزائل حملوں" کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ جن دو فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا گیا ان کے اندر "ایرانی عناصر" موجود تھے۔ المرصد یہ معلوم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکا کہ یہ میزائل کس نے داغے اور حملے میں کتنا جانی نقصان ہوا۔

اس سلسلے میں دستیاب معلومات کے مطابق حماہ کے جنوبی نواح میں بریگیڈ 47 کے ہیڈکوارٹر پر جہاں ایرانی فورسز تعینات ہیں اور سلحب قصبے کے نزدیک دیگر علاقوں پر میزائلوں سے بم باری کی گئی۔ ان کے علاوہ النیرب عسکری ہوائی اڈے کے علاقے اور حلب کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے نزدیک شامی حکومت کی فورسز اور ان کے حلیفوں کے ٹھکانوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ بعد ازاں نشانہ بننے والے مقامات پر آگ بھڑک اٹھی۔

شامی سرکاری ٹیلی وژن نے اتوار کے روز ایک فوجی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ میزائلوں سے حماہ اور حلب کے نواح میں کئی فوجی اڈوں کو نقصان پہنچا۔

یاد رہے کہ 2011ء میں شام میں تنازع کے آغاز کے بعد سے اسرائیل نے شام میں سرکاری عسکری اہداف اور حزب اللہ کے ٹھکانوں کو بارہا بم باری کا نشانہ بنایا۔

رواں ماہ 9 اپریل کو شام میں التیفور کے فضائی اڈے پر صبح کے وقت فضائی حملے میں 14 افراد ہلاک ہو گئے جن میں سات ایرانی بھی تھے۔ روس اور ایران نے کارروائی کا ذمّے دار اسرائیل کو ٹھہرایا۔ اسرائیل کی جانب سے کارروائی کی تردید یا تصدیق نہیں کی گئی۔

کارروائی کے اگلے روز 10 اپریل کو ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی "اِسنا" نے رہبر اعلی علی خامنہ ای کے خارجہ امور کے مشیر علی اکبر ولایتی کے حوالے سے بتایا کہ "شام پر صہیونی حملے کو بنا کسی جواب کے ہر گز نہیں چھوڑا جائے گا"۔

اسرائیل کی کوشش رہی ہے کہ شام کی جنگ میں براہ راست طور پر ملوث ہونے سے گریز کیا جائے۔ تاہم وہ کئی مرتبہ تصدیق کر چکا ہے کہ اس نے لبنانی تنظیم حزب اللہ تک جدید ہتھیاروں کی وصولی کو روکنے کے واسطے شام میں درجنوں فضائی حملے کیے۔