.

ایران صحرا کی گہرائی میں میزائل پروگرام کو ترقی دے رہا ہے : رپورٹ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اخبار "نیویارک ٹائمز" کے مطابق کیلیفورنیا ریاست میں ہتھیاروں کے محققین کی ایک ٹیم نے بیلسٹک میزائل کی ترقی سے متعلق ایرانی پروگرام کے حوالے سے نئی تفصیلات کا پتہ چلایا ہے۔

اخبار کا کہنا ہے کہ مذکورہ محققین کو ملنے والے شواہد کے مطابق ایرانی پاسداران انقلاب شمالی ایران کے علاقے شاہرود کے ایک صحراء میں بیلسٹک میزائلوں کی ترقی اور ان کے تجربات کے اس خفیہ پروگرام کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔

اخبار کے مطابق محققین نے کئی ہفتوں تک مصنوعی سیاروں کے ذریعے اس تنصیب کی تصاویر لیں۔ یہاں انہوں نے ملاحظہ کیا کہ رات کے اندھیروں میں جدید میزائلوں کے انجن اور ان کے ایندھن پر کام کیے جانے کے حوالے سے توجہ مرکوز ہے۔

اس بات کا امکان ہے کہ یہ تنصیب صرف درمیانے فاصلے کے میزائلوں کو ترقی دینے پر کام کرے جو واقعتا ایران کے پاس موجود ہیں۔

البتہ رپورٹ کے نتائج کا جائزہ لینے والے پانچ دیگر ماہرین کے نزدیک اس بات کے ناقابل تردید ثبوت موجود ہیں کہ ایران طویل فاصلے کے میزائل کو ترقی دے رہا ہے۔

انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز کے محقق مائیکل ایلمن جنہوں نے تنصیب کی تصاویر پیش کیں، ان کا کہنا ہے کہ تحقیق بعض ایسی پیش رفت کا پتہ دے رہی ہے جو باعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے ابتدائی اقدامات ظاہر ہو رہے ہیں جن کے مطابق اگر تہران خواہش مند ہوا تو وہ پانچ سے دس برس بعد(ICBM) کے لیے بحری جہازوں کی تیاری کے سلسلے میں رابطہ کار نظام وجود میں لا سکتا ہے۔

کیلیفورنیا میں میڈلبری انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل اسٹڈیز کے محققین کے مطابق جنرل حسن تہرانی شمالی ایران کے علاقے "شاہرود" میں تحقیق کر رہا تھا جہاں 2013ء میں میزائل کا تجربہ کیا گیا۔

گزشتہ برسوں کی سیٹلائٹ تصاویر سے یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ میزائل لانچنگ پیڈ کے نزدیک بندش کا شکار ہونے والی عمارتوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا۔

رپورٹ کے مطابق بند مقامات پر کئی عسکری ٹکنالوجیز تیار کی جا سکتی ہیں۔ اس کے علاوہ زیر زمین عمارتوں میں بیلسٹک تجربہ گاہیں، سرنگیں اور افزودگی کی تنصیبات کو چھپایا جا سکتا ہے۔ تاہم میزائلوں کا تجربہ ایک علاحدہ امر ہے جہاں اس کے انجن کو لانچنگ پیڈ پر رکھا جانا ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں شاہرود جیسے علاقے کے صحراء میں آثار باقی رہ جاتے ہیں۔

اس بنیاد پر محققین کو شاہرود کے حوالے سے سیٹلائٹ تصاویر کے مطالعے سے زمین کی سطح پر پھٹن کے آثار ملے ہیں۔ ان میں ایک کا تعلق 2016ء سے اور دوسرے کا جون 2017ء سے ہے۔

محققین نے میزائل تجربے کے لانچنگ پیڈز کا بھی تفصیلی معائنہ کیا۔ اس کے مطابق 2017ء میں شاہرود کے تجربے میں استعمال ہونے والے لانچنگ پیڈ کا وزن 370 ٹن کے قریب تھا۔ اس کا مطلب ہوا کہ میزائل کا انجن 62 سے 93 ٹن کے درمیان کی طاقت رکھتا تھا جو بین البراعظمی بیلسٹک میزائل کے لیے کافی ہے۔

محققین کا کہنا ہے کہ شاہرود کے علاقے میں میزائل کے تجربات کے لیے تین سرنگیوں ہیں۔ ان میں ایک کا قطر 5.5 میٹر ہے جو درمیانی فاصلے کے ایرانی میزائلوں کے لیے استعمال ہونے والی سرنگ کے قطر سے بہت بڑا ہے۔

محققین نے باور کرایا کہ سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق یہ تنصیب ابھی تک سرگرم ہے اور یہاں انسانی نقل و حرکت دیکھی گئی ہے۔

ایسا لگتا ہے کہ سرنگ کے اندر اور باہر بھاری گاڑیوں کی آمد و رفت ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شاہرود کا یہ ٹھکانہ ایک بڑی زیر زمین تنصیب کے اوپر واقع ہے۔