.

شام کے شہر منبج میں تعاون کے لیے ترکی اور امریکا کے درمیان روڈ میپ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا اور ترکی نے جمعے کے روز اعلان کیا ہے کہ دونوں ملک شام کے شمالی شہر منبج میں امن و استحکام کو یقینی بنانے کے لیے تعاون کے حوالے سے ایک "روڈ میپ" پر متفق ہو گئے ہیں۔ کردوں کے زیر کنٹرول یہ شہر نیٹو اتحاد کے رکن دونوں ممالک کے بیچ اختلاف کا ذریعہ بن گیا تھا۔

انقرہ میں ترکی کی وزارت خارجہ اور امریکی سفارت خانے نے ایک مشترکہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ فریقین نے اس حوالے سے روڈ میپ کا خاکہ متعین کر لیا ہے۔

منبج پر اس وقت کرد"پیپلز پروٹیکشن یونٹس" کا کنٹرول ہے جس کو انقرہ ایک دہشت گرد تنظیم شمار کرتا ہے اور اسے ترکی میں کالعدم جماعت کردستان ورکرز پارٹی کی ایک شاخ قرار دیتا ہے۔ دوسری جانب امریکا جو منبج میں عسکری وجود بھی رکھتا ہے وہ داعش تنظیم کے خلاف جنگ میں ان کُرد جنجگوؤں کو عسکری طور پر سپورٹ کرتا ہے۔ اس سپورٹ نے ترک ذمے داران کے غصّے کو بھڑ کا رکھا ہے۔

جمعے کے روز ایک امریکی وفد منبج کا معاملہ زیر بحث لانے کے لیے ترکی پہنچا تھا۔ واضح رہے کہ آئندہ ماہ 4 جون کو ترک وزیر خارجہ چاوش مولود اوگلو بھی واشنگٹن کے دورے کا ارادہ رکھتے ہیں۔

سابق امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے فروری میں ترکی کے دورے کے دوران اپنے ترک ہم منصب کے ساتھ دونوں ملکوں کے بیچ "ورکنگ گروپس" کی تشکیل پر اتفاق کیا تھا تا کہ امریکا اور ترکی کے درمیان متعدد اختلافی معاملات کو حل کیا جا سکے۔

ترکی نے رواں برس جنوری میں شام کے شمالی شہر عفرین میں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کو نشانہ بنانے کے لیے سرحدی عسکری آپریشن شروع کیا تھا۔ بعد ازاں ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے آپریشن کو منبج تک پھیلا دینے کے دھمکی دی جس نے ترک اور امریکی فورسز کے درمیان ٹکراؤ کے اندیشے پیدا کر دیے تھے۔

ترکی کے عسکری آپریشن نے دونوں حلیف ممالک کے بیچ کشیدگی بھی پیدا کر دی۔ امریکا نے ترکی پر زور دیا کہ وہ "خو کو قابو میں رکّھے" کیوں کہ یہ امر داعش تنظیم کے جنگجوؤں کے خلاف جنگ کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

ایردوآن نے جمعرات کے روز کہا کہ "ترکی شام میں نئے عسکری آپریشنز کرے گا یہاں تک کہ شامی اراضی کو دہشت گردوں سے پاک کر دیا جائے"۔ ان کا اشارہ کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس اور داعش تنظیم کی جانب تھا۔